🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
73. دعاء الغازي عند بيتوتته
مجاہد کے رات گزارنے کے وقت کی دعا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2543
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد ابن إدريس، حدثنا أبو نُعيم. وأخبرنا أبو العباس المَحبُوبي، حدثنا أحمد بن سيّار، حدثنا محمد بن كثير. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن أبي نصر المروَزي، قالا: أخبرنا محمد ابن غالب، حدثنا أبو حذيفة، قالوا: حدثنا سفيان، عن أبي إسحاق، عن المهلَّب بن أبي صُفْرة، قال: أخبرني مَن سمع النبي ﷺ يقول:"إن بُيِّتُّم فليكن شِعارُكم: حم لا يُنصَرون" (1) . وهكذا رواه زهير بن معاوية عن أبي إسحاق:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2512 - تابعه زهير بن معاوية على شرط البخاري ومسلم
سیدنا مہلب بن ابی صفرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے ایسے آدمی نے یہ بات بتائی ہے جس نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم پر شب خون مارا جائے تو تمہارا کوڈورڈ حم لا ینصرون ہونا چاہیے۔ ٭٭ اسی طرح یہ حدیث زہیر بن معاویہ نے ابواسحٰق سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2543]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2543 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو نُعيم: هو الفضل بن دُكَين، وأبو حذيفة هو موسى بن مسعود النَّهْدي، وسفيان: هو الثَّوري، وأبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعي، وهذا الصحابي المبهم بيَّنه شريك النخعي في روايته الآتية برقم (2545)، وهو البراء بن عازب، على أنَّ إبهام الصحابي لا يضر أصلًا.
⚖️ درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود مبہم صحابی کی وضاحت شریک کی روایت (2545) سے ہوتی ہے کہ وہ حضرت براء بن عازب ہیں۔ صحابی کا مبہم ہونا حدیث کی صحت کو نقصان نہیں پہنچاتا۔
وأخرجه أبو داود (2597) عن محمد بن كثير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (2597) نے محمد بن کثیر کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (1682) من طريق وكيع بن الجراح، عن سفيان الثَّوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (1682) نے وکیع عن سفیان ثوری کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: بُيِّتُّم، أي: قصدكم العدو ليلًا من غير علم لكم، فأُخذتم بغتةً.
📝 نوٹ / توضیح: "بیّتّم" کا مطلب ہے کہ دشمن رات کے وقت تم پر اچانک حملہ کر دے جب تمہیں خبر نہ ہو۔