المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
72. شعار القبائل يوم بدر .
غزوۂ بدر میں قبائل کے نعروں کا بیان
حدیث نمبر: 2541
حدثنا أبو علي الحافظ، حدثنا القاسم بن زكريا المُطرِّز، حدثنا عمرو بن محمد الناقد، حدثنا يعقوب بن محمد الزُّهْري، حدثنا عبد العزيز بن عمران، حدثنا إبراهيم بن إسماعيل بن أبي حَبِيبة، عن يزيد بن رُومان، عن عُروة بن الزُّبَير، عن عائشة قالت: جعلَ رسولُ الله ﷺ شِعارَ المهاجرين يوم بَدرٍ: عبدَ الرحمن، والأوسِ: بني عَبد الله، والخزرجِ بني عُبيد الله (2) .
هذا حديث غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرجا (3) في الشِّعار حديث الزُّهْري، عن كثير بن العباس، عن أبيه: لما كان يومَ حُنينٍ انهزمَ الناس، الحديثَ بطوله، ويذكر فيه شِعار القبائل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2510 - بل يعقوب وإبراهيم ضعيفان
هذا حديث غريب صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إنما أخرجا (3) في الشِّعار حديث الزُّهْري، عن كثير بن العباس، عن أبيه: لما كان يومَ حُنينٍ انهزمَ الناس، الحديثَ بطوله، ويذكر فيه شِعار القبائل.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2510 - بل يعقوب وإبراهيم ضعيفان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگِ بدر کے دن مہاجرین کا پوشیدہ نام (کوڈورڈ) ” عبدالرحمن “، اوس کا ” نبی عبداللہ “ اور خزرج کا ” نبی عبیداللہ “ مقرر کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے پوشیدہ نام (کوڈورڈ) رکھنے کے سلسلے میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ حنین کے دن جب لوگ شکست کھا کر بھاگے، اس کے بعد پوری حدیث بیان کی اور اس میں قبیلوں کے پوشیدہ نام (کوڈورڈ) کا ذکر بھی کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2541]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2541 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف جدًّا، يعقوب بن محمد فيه لين، وعبد العزيز بن عمران متروك وقريب منه إسماعيل بن إبراهيم بن أبي حبيبة، وخالفهما عمر بن عبد الله بن عُرْوة بن الزُّبَير فرواه عن جده عروة مرسلًا كما سيأتي، وهو المحفوظ، وعكس بين شعار الأوس وشعار الخزرج.
⚖️ درجۂ حدیث: سند انتہائی ضعیف ہے۔ عبدالعزیز بن عمران متروک ہے اور یعقوب بن محمد لین (کمزور) ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں اوس اور خزرج کے نعروں (شعار) کو الٹ دیا گیا ہے، جبکہ صحیح روایت عروہ کی 'مرسل' ہے جو آگے آئے گی۔
وأخرجه البيهقي 6/ 361 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد. ولفظه فيه: يا بني عبد الرحمن. وخالف عبدَ العزيز بن عمران فيه محمدُ بن عمر الواقدي في مغازيه 1/ 71، فرواه عن ابن أبي حبيبة، عن داود بن الحصين، عن عروة، عن عائشة، فذكر داود بن الحصين بدل يزيد بن رومان، وعكس بين شعار الأوس وشعار الخزرج.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔ واقدی نے بھی اس میں نعروں کو الٹ کر ذکر کیا ہے۔
وخالفهما عمرُ بن عبد الله بن عروة عند البيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 361، وفي "الدلائل" 3/ 70 من طريق محمد بن إسحاق، قال: حدثني عمر بن عبد الله بن عُرْوة، عن عروة بن الزُّبَير، فذكره مرسلًا، وعكس بين شعار الأوس وشعار الخزرج، وإسناده حسن مرسلًا.
⚖️ درجۂ حدیث: عمر بن عبد اللہ کی مرسل روایت کی سند حسن ہے۔ انہوں نے اسے عروہ بن زبیر سے مرسلًا بیان کیا ہے۔
ورُوي عن سمرة بن جندب عند أبي داود (2595): أنَّ شعار المهاجرين كان عبد الله، وشعار الأنصار عبد الرحمن. وإسناده فيه ضعفٌ.
🧩 متابعات و شواہد: سمرہ بن جندب سے مروی ہے کہ مہاجرین کا نعرہ 'عبد اللہ' اور انصار کا 'عبد الرحمن' تھا، مگر اس کی سند ضعیف ہے۔
(3) بل أخرج مسلم وحده (1775) حديث كثير بن العباس هذا، وفيه قولُ العباس: والدعوة في الأنصار يقولون: يا معشر الأنصار يا معشر الأنصار، قال: ثم قصرت الدعوة على بني الحارث ابن الخزرج فقالوا: يا بني الحارث بن الخزرج، يا بني الحارث بن الخزرج.
📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم نے (1775) میں کثیر بن عباس کی حدیث روایت کی ہے جس میں انصار اور پھر خاص طور پر بنو حارث بن خزرج کے نعروں کا ذکر ہے۔