🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
78. أول الناس يقضى فيه يوم القيامة
سب سے پہلے جن کا فیصلہ کیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2556
أخبرنا أبو بكر أحمد بن سلمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن ابن مُكْرم، حدثنا عثمان بن عمر، أخبرنا ابن جُرَيج، حدثنا يوسف بن يونس (3) ، عن سليمان بن يَسَار، قال: تَفرَّق الناسُ عن أبي هريرة، فقال له أخو أهل الشام: أيها الشيخُ حدَّثْنا حديثًا سمعتَه من رسول الله ﷺ، قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أول الناس يُقضَى فيه يوم القيامة رجلٌ استُشْهِد فأتي به، فعَرَّفه نِعَمَهُ، فَعَرَفَها، قال: فما عمِلتَ فيها؟ قال: قاتَلْتُ فيك حتى قُتِلْتُ قال: كَذَبْتَ، ولكن قاتَلْتَ ليُقال: هو جَريءٌ، فقد قيل، قال: ثم أَمَر به فسُحِبَ (1) على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجل تَعلّم العلمَ وعَلَّمَه، وقرأ القرآنَ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه عليه، فعَرَفها، قال: ما عمِلتَ فيها؟ قال: تعلَّمتُ فيك العلمَ وعلمتُه وقرأتُ فيك القرآنَ، فيقول: كذبتَ، ولكنك تعلّمتَ العلمَ ليُقال: هو عالمٌ، وقرأتَ القرآنَ ليُقال: هو قارئٌ فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقي في النار، ورجُلٌ وسَّع الله عليه، فأعطاهُ من أنواعِ المالِ، فأُتي به، فعَرَّفه نِعَمَه، فعَرَفها، فقال: ما عمِلتَ فيها؟ فقال: ما علِمتُ مِن شيءٍ تحبُّ أن يُنفَقَ فيه إلّا أنفقتُ فيه، قال: كذبتَ، ولكنك فعلتَ ليُقال: هو جَوَادٌ، فقد قيل، ثم أَمَر به، فسُحِبَ على وجهه، حتى أُلقيَ في النار" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجه البخاري (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2524 - لم يخرجه البخاري وهو على شرطهما
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے جس شخص کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا وہ ایک شہید ہو گا، اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کا اعتراف کروائے گا، وہ اعتراف کر لے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے میرے لیے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: یا اللہ! تیری رضا کی خاطر میں لڑتا رہا حتیٰ کہ مجھے قتل کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تو نے جہاد اس لیے کیا تھا تاکہ لوگ تجھے بہادر کہیں، سو وہ کہہ لیا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اس کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک ایسا شخص جس نے علم حاصل کیا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن پڑھا ہو گا، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جائے، اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتوں کا اعتراف کروائے گا، وہ اعتراف کر لے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: تیری رضا کی خاطر میں نے علم سیکھا اور اس کی تعلیم دی اور تیری رضا کی خاطر قرآن پڑھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے، تو نے تو علم اس لیے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا تھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے، سو وہ کہہ لیا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا اور اس کو اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک ایسا شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے وسعت دی اور قسم قسم کا مال عطا فرمایا، اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتوں کا اعتراف کروائے گا، وہ اعتراف کر لے گا، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان کے بدلے میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: مجھے جس چیز کے متعلق بھی یہ پتہ چلا کہ اس میں خرچ کرنا تجھے پسند ہے، میں نے وہاں خرچ کیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹا ہے، تو نے تو اس لیے خرچ کیا تھا کہ تجھے سخی کہا جائے، سو کہہ لیا گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ حکم دے گا اور اس کو اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2556]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2556 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) وأخرجه مسلم (1905) من طريقي خالد بن الحارث وحجاج بن محمد عن ابن جريج.
📖 حوالہ: اسے امام مسلم (1905) نے ابن جریج کے دو ثقہ شاگردوں سے روایت کیا ہے۔