المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
86. نهي التفريق فى المنزل إذا نزلوا
کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2572
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا عمرو بن عثمان الحمصي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن عبد الله بن العلاء بن زَيْر، أنه سمع مسلم بن مِشْكَم أبا عُبيد الله يقول: حدثنا أبو ثَعلَبة الخُشَني، قال: كان الناسُ إذا نزلوا منزلًا تفرَّقوا في الشِّعاب والأودية، فقال رسول الله ﷺ:"إنَّ تفرُّقَكم في هذه الشِّعاب والأودية إنما ذلكمُ من الشيطان"، فلم يَنزِلُوا بعد ذلك منزلًا إلَّا انضمَّ بعضهم إلى بعض، حتى يقال: لو بُسِط عليهم ثوبٌ لَعَمَّهم (1) صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2540 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2540 - صحيح
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کسی جگہ پر پڑاؤ ڈالتے تو وادیوں میں، پہاڑی راستوں میں بکھر جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ان وادیوں اور پہاڑی راستوں میں بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے، اس کے بعد وہ لوگ جہاں بھی پڑاؤ ڈالتے تو ایک دوسرے کے ساتھ یوں مل کر بیٹھتے کہ اگر کوئی بڑی چادر ان پر پھیلائی جائے تو سب اس کے نیچے آ جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2572]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2572 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أبو داود (2628)، والنسائي (8805) عن عمرو بن عثمان الحمصي، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 29/ (17736)، وأبو داود (2628)، وابن حبان (2690) من طرق عن الوليد ابن مسلم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد (2628)، نسائی (8805)، احمد (29/ 17736) اور ابن حبان (2690) نے ولید بن مسلم کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔