🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. عَلَيْكُمْ بِالدُّلْجَةِ ، فَإِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيْلِ
رات کے وقت سفر اختیار کرو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2571
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا يحيى بن معين حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سليمان ابن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، حدثنا بشر بن عاصم، عن عُقبة بن مالك، قال: بعث النبيُّ ﷺ سريةً فسَلّحتُ رجلًا منهم سيفًا، فلما رجعنا إلى رسول الله ﷺ لامَنا رسولُ الله ﷺ، وقال:"أعجَزْتُم إذا بعثتُ رجلًا فلم يَمْضِ لأمري، أن تَجعَلوا مكانَه مَن يَمْضِي لأمري" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2539 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستہ (سریہ) روانہ فرمایا، میں نے ان میں سے ایک شخص کو ایک تلوار بطور اسلحہ دی، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملامت کی اور فرمایا: کیا تم لوگ اس بات سے عاجز تھے کہ جب میں نے ایک آدمی کو (امیر بنا کر) بھیجا اور وہ میرے حکم پر (صحیح طرح) عمل پیرا نہ ہو سکا، تو تم اس کی جگہ کسی ایسے شخص کو مقرر کر دیتے جو میرے حکم کو بجا لاتا؟
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2571]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،إن كان بشر بن عاصم - وهو الليثي - هو من أراده النسائي بالتوثيق فإنه لم ينسبه في كتابه "التمييز" كما أشار إليه ابنُ القطان في "بيان الوهم" 4/ 357، ورجح أنَّ موثَّق النسائي هو بشر بن عاصم الثقفي. قلنا: فإن كان كذلك فإنَّ بشرًا الليثي حسن الحديث.» [ترقيم الرساله 2571] [ترقيم الشركة 2554] [ترقيم العلميه 2539]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2571 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح إن كان بشر بن عاصم - وهو الليثي - هو من أراده النسائي بالتوثيق فإنه لم ينسبه في كتابه "التمييز" كما أشار إليه ابنُ القطان في "بيان الوهم" 4/ 357، ورجح أنَّ موثَّق ¤ ¤ النسائي هو بشر بن عاصم الثقفي. قلنا: فإن كان كذلك فإنَّ بشرًا الليثي حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر بشر بن عاصم سے مراد "ثقفی" ہیں تو سند صحیح ہے، اور اگر "لیثی" ہیں تو وہ "حسن الحدیث" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام نسائی نے اپنی کتاب "التمیز" میں صراحت نہیں کی کہ کس بشر کو ثقہ کہا ہے، تاہم ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 357) میں "بشر بن عاصم ثقفی" کو مراد لیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2627) عن يحيى بن معين بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2627) بحوالہ یحییٰ بن معین۔
وأخرجه أحمد 28 / (17007) عن عبد الصمد، وابن حبان (4740) من طريق إسحاق بن راهويه، عن عبد الصمد، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (28/ 17007) اور ابن حبان (4740) بحوالہ عبدالصمد۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2571 in Urdu