المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
85. عليكم بالدلجة ، فإن الأرض تطوى بالليل
رات کے وقت سفر اختیار کرو کیونکہ رات میں زمین سمیٹ دی جاتی ہے
حدیث نمبر: 2571
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالوَيهِ، حدثنا معاذ بن المثنَّى العَنبَري، حدثنا يحيى بن معين حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا سليمان ابن المغيرة، حدثنا حميد بن هلال، حدثنا بشر بن عاصم، عن عُقبة بن مالك، قال: بعث النبيُّ ﷺ سريةً فسَلّحتُ رجلًا منهم سيفًا، فلما رجعنا إلى رسول الله ﷺ لامَنا رسولُ الله ﷺ، وقال:"أعجَزْتُم إذا بعثتُ رجلًا فلم يَمْضِ لأمري، أن تَجعَلوا مكانَه مَن يَمْضِي لأمري" (3)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2539 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2539 - على شرط مسلم
سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا، میں نے ان میں سے ایک آدمی کو ہتھیار پہنائے، جب ہم لوٹ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ملامت کرتے ہوئے فرمایا: جب میں نے ایک شخص کو تمہاری طرف بھیجا اور وہ میرے حکم کو پورا نہ کر سکا تو تم سے اتنا نہ ہو سکا کہ اس کی جگہ کسی ایسے آدمی کو مقرر کر دیتے جو میرے حکم کو پورا کر لیتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2571]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2571 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده صحيح إن كان بشر بن عاصم - وهو الليثي - هو من أراده النسائي بالتوثيق فإنه لم ينسبه في كتابه "التمييز" كما أشار إليه ابنُ القطان في "بيان الوهم" 4/ 357، ورجح أنَّ موثَّق ¤ ¤ النسائي هو بشر بن عاصم الثقفي. قلنا: فإن كان كذلك فإنَّ بشرًا الليثي حسن الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر بشر بن عاصم سے مراد "ثقفی" ہیں تو سند صحیح ہے، اور اگر "لیثی" ہیں تو وہ "حسن الحدیث" ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام نسائی نے اپنی کتاب "التمیز" میں صراحت نہیں کی کہ کس بشر کو ثقہ کہا ہے، تاہم ابن القطان نے "بیان الوہم" (4/ 357) میں "بشر بن عاصم ثقفی" کو مراد لیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (2627) عن يحيى بن معين بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: ابو داؤد (2627) بحوالہ یحییٰ بن معین۔
وأخرجه أحمد 28 / (17007) عن عبد الصمد، وابن حبان (4740) من طريق إسحاق بن راهويه، عن عبد الصمد، به.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (28/ 17007) اور ابن حبان (4740) بحوالہ عبدالصمد۔