🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. نهي التفريق فى المنزل إذا نزلوا
کسی جگہ ٹھہرنے کے بعد گھر والوں کو الگ الگ منتشر کرنے کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز البَغَوي، حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة كان يرمي يوم أُحُد بين يدَي رسول الله ﷺ ورسولُ الله ﷺ خَلْفَه، وكان أبو طلحة راميًا، وكان إذا رمى يرفعُ النبي ﷺ شَخْصَه ليَنظُرَ أين يقعُ سهمُه، وكان أبو طلحة يرفع صدره ويقول: هكذا بأبي أنتَ يا رسول الله، لا يُصيبُك سهمٌ، نَحْري دون نَحْرك، وكان أبو طلحة يُودُّ (1) نفسه بين يدي رسولَ الله ﷺ فيقول: يا رسول الله، أنا جَلْدٌ قويٌّ، فمُرْني بما شئتَ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2547 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگِ اُحد کے دن سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے (کھڑے دشمنوں پر) تیراندازی کر رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پیچھے تھے، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جب بھی تیر پھینکتے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونچے ہو کر دیکھتے کہ ان کا نشانہ کہاں لگتا ہے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنا سینہ بلند کر کے عرض کرتے: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میرا سینہ آپ کے سینے تک کوئی تیر نہ پہنچنے دے گا، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کر کے اپنی خواہش کا یوں اظہار کرتے ہیں، یا رسول اللہ! میں اپنی قوم میں سب سے طاقتور آدمی ہوں، آپ جو چاہیں مجھے حکم ارشاد فرمائیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2579]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2579 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذا النسخ الخطية، والظاهر أنه فعل مشتق من الوَتِد على لغة تَميم، لأنَّ الوَيِد عندهم يسمى الوَدّ. فكأنَّ أبا طلحة يوطّد نفسه في وقفته بين يدي رسول الله ﷺ كالوَتِد، خشية أن يتزحزحَ فيصيبَ رسولَ الله ﷺ سهامُ المشركين، وربما كان هذا اللفظ محرفًا عن يَشُور، كما جاء عند غير المصنف ممن خرَّج هذا الحديث، ويكون المعنى أنَّ أبا طلحة يسعى ويُخِفٌ نفسَه بين يدي رسول الله ﷺ ليُظهر بذلك قوته مِن شُرْتُ الدَّابة إذا أجريتها لتعرف قوّتها، أو يعرِّض نفسه للقتل، وقتلها في سبيل الله بيع لها، مِن شُرتُ الفرس: إذا عرضتَها للبيع.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں میں موجود لفظ "وَدّ" لغتِ تمیم کے مطابق "وتد" (میخ/کھونٹا) سے نکلا ہے، یعنی حضرت ابوطلحہ نے نبی ﷺ کے سامنے خود کو کھونٹے کی طرح گاڑ لیا تھا تاکہ مشرکین کے تیر آپ ﷺ کو نہ لگیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض کے نزدیک یہ "یشور" سے تحریف شدہ ہے، جس کا مطلب اپنی جان کو اللہ کے ہاتھ بیچ دینا یا اپنی قوت کا اظہار کرنا ہے۔
(2) إسناده صحيح. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.
⚖️ درجۂ حدیث: سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ثابت سے مراد ثابت بن اسلم بنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 21 / (14058) عن عفان بن مسلم، عن حماد بن سلمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: احمد (21/ 14058) بحوالہ عفان بن مسلم۔
وأخرجه بنحوه أحمد 19 / (12024) و 20 (13139)، وابن حبان (4582) و (7181) من طريق حميد بن أبي حميد الطويل، وأحمد 21/ (13800)، والبخاري (2902) من طريق إسحاق ابن عبد الله بن أبي طلحة، والبخاري (3811) و (4064)، ومسلم (1811) من طريق عبد العزيز ابن صهيب ثلاثتهم عن أنس بن مالك.
🧩 متابعات و شواہد: اسے امام احمد، بخاری، مسلم اور ابن حبان نے حمید الطویل، اسحاق بن عبداللہ اور عبدالعزیز بن صہیب کے طرق سے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (5607) من طريق حميد الطويل عن أنس.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ آگے نمبر (5607) پر حمید الطویل کی سند سے آئے گی۔
(3) بل قد أخرجاه بنحوه كما قدمنا، فلا استدراك عليهما!
📌 اہم نکتہ: چونکہ بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے، اس لیے ان پر اعتراض کی گنجائش نہیں۔