المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. تنفل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم سيفه ذا الفقار يوم بدر
سیدنا رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے دن اپنی تلوار ذوالفقار نفل کے طور پر دی
حدیث نمبر: 2620
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة، عن ابن عباس، قال: تَنفَّل رسول الله ﷺ سيفَه ذا الفَقَار يومَ بدرٍ، قال ابن عباس: وهو الذي رأى فيه الرؤيا يومَ أُحدٍ، وذلك أنَّ رسول الله ﷺ لما جاءه المشركون يوم أُحد، كان رأيُ رسول الله ﷺ أن يُقيم بالمدينة يقاتِلُهم فيها، فقال له ناس لم يكونوا شَهِدوا بدرًا: يخرجُ بنا رسولُ الله إليهم نقاتِلُهم بأحدٍ، وَتَرَجَّوا (1) أن يُصِيبوا من الفَضِيلة ما أصابَ أهلُ بدرٍ. فما زالوا برسول الله ﷺ حتى لَبِسَ أداتَه، نَدِموا، وقالوا: يا رسول الله، أقِمْ، فالرأيُ رأيُك، فقال رسول الله ﷺ:"ما ينبغي لنبيٍّ أن يضعَ أدَاتَه بعد أن لَبِسَها، حتى يَحكُم اللهُ بينَه وبين عَدُوِّه"، قال: وكان لما قال لهم رسول الله ﷺ يومئذ قبل أن يَلْبَس الأداةَ:"إني رأيتُ أني في دِرْعٍ حَصينةٍ، فأوّلتُها المدينةَ، وأني مُردِفٌ كَبْشًا، فَأَوَّلْتُه كَبْشَ الكَتيبةِ، ورأيتُ أن سيفي ذا الفَقَارِ فُلَّ، فأوّلْتُه فَلًّا فيكم، ورأيت بَقَرًا تُذبَح، فبَقْرٌ والله خيرٌ، فبَقْرٌ والله خيرٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2588 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار ذوالفقار جنگ بدر کے موقع پر مالِ غنیمت کے اضافی حصہ کے طور پر حاصل کی تھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ وہی تلوار تھی جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے موقع پر خواب دیکھا تھا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ احد کے دن جب مشرکین جنگ کے لیے تیار تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ مدینہ شہر کے اندر رہ کر مقابلہ کیا جائے تو کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ہم لوگ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے، یا رسول اللہ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو اپنے ہمراہ لے چلیں گے؟ تاکہ ہم دشمن کے ساتھ میدان احد میں مقابلہ کریں اور ان کو وہی فضیلت پانے کی تمنا تھی جو جنگ بدر میں شریک ہونے والوں کو حاصل ہوئی تھی، وہ لوگ مسلسل اصرار کرتے رہے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس زیب تن کیا اور ہتھیار وغیرہ پہن لیے۔ پھر وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے ہی بہتر رائے ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر جائیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نبی جنگ کے لیے ہتھیار اٹھا لیتا ہے تو پھر جب تک اللہ تعالیٰ اس کے اور دشمن کے درمیان فیصلہ نہیں کر دیتا، اس وقت تک وہ اپنے ہتھیار اتارتا نہیں ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حالانکہ اسی دن جنگی لباس پہننے سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو یہ بات بتا چکے تھے کہ میں نے (خواب میں) دیکھا ہے کہ میں بہت مضبوط زرہ پہنے ہوئے ہوں، میں نے اس کی تعبیر شہر (مدینہ) قرار دی ہے، میں نے دیکھا کہ میں ایک مینڈھے کو غبار میں روند رہا ہوں، اس کی تعبیر یہ ہے کہ دشمن کے لشکر کا سردار مارا جائے گا اور میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ میری تلوار ذوالفقار کو دندانے پڑ گئے ہیں، میں نے اس کی تعبیر تمہاری شکست سمجھی ہے اور میں نے دیکھا ہے کہ گائے ذبح کی جا رہی ہے اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ اللہ کی قسم! گائے (کو خواب میں دیکھنا) اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2620]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2620 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ب): ورَجَوا، وهما بمعنًى.
📝 نوٹ: نسخہ (ب) میں "رَجَوا" (انہوں نے امید کی) ہے، اور دونوں ہم معنی ہیں۔
(2) إسناده حسن كما قال البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 41، وقد رواه عن أبي عبد الله الحاكم، وذلك من أجل ابن أبي الزِّناد - واسمه عبد الرحمن - فهو حسن الحديث، وقصة الرؤيا وتأويلها صحيحة رُويَت من وجهين آخرين عن النبي ﷺ. ابن وهب: هو عبد الله بن وهب المصري.
⚖️ درجۂ حدیث: سند "حسن" ہے جیسا کہ امام بیہقی (7/ 41) نے فرمایا۔ 🔍 فنی نکتہ: عبد الرحمن بن ابی الزناد "حسن الحدیث" ہیں، اور خواب و تعبیر کا قصہ صحیح ہے جو دیگر دو طرق سے بھی نبی ﷺ سے مروی ہے۔
وأخرجه مختصرًا بذكر سيف النبي ﷺ ذي الفَقَار والرؤيا التي أُريها فيه: أحمد (4/ 2445) عن سُريج بن النعمان، عن ابن أبي الزِّناد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (4/ 2445) نے اسے نبی ﷺ کی تلوار "ذوالفقار" اور خواب کے ذکر کے ساتھ مختصراً روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا بذكر سيفه ﷺ: ابنُ ماجه (2808) من طريق محمد بن الصَّلْت الأسدي، والترمذي (1561/ 2) عن هناد بن السري، كلاهما عن ابن أبي الزِّناد، به. وقال الترمذي: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ اور ترمذی نے بھی اسے مختصراً روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" قرار دیا ہے۔
وقد رُويَت هذه الرؤيا بعينها من حديث أبي موسى الأشعري عند البخاري (3622) ومسلم (2272). ¤ ¤ ومن حديث جابر بن عبد الله عند أحمد (23/ 14787)، والنسائي (7600).
🧩 متابعات و شواہد: یہی خواب بعینہٖ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کی روایت سے بخاری و مسلم میں، اور حضرت جابرؓ کی روایت سے مسند احمد اور نسائی میں موجود ہے۔
قوله: "فُلَّ" أي: ثُلِمَ، والثُّلْمة: كَسْرٌ في حَدِّ السيف.
📝 لغوی توضیح: "فُلَّ" کا مطلب ہے تلوار کی دھار میں دندانہ پڑ جانا یا اس کا ٹوٹ جانا (ثلمہ)۔
وقوله: "فبَقْرٌ" بسكون القاف: هو شقُّ البطن، وهذا أحد وجوه التعبير أن يُشتق من الاسم معنًى مناسب. قاله الحافظ في "الفتح" 12/ 206 - 207.
📝 لغوی توضیح: "بَقْرٌ" (قاف کے سکون کے ساتھ) کا معنی ہے پیٹ چاک کرنا۔ حافظ ابن حجر کے مطابق تعبیر کا ایک طریقہ یہ ہے کہ نام سے کوئی مناسب معنی اخذ کیا جائے۔
وقوله: "والله خير" إما أن يكون برفع لفظ الجلالة وخبره "خيرٌ" على تقدير محذوف، أي: وصُنع الله بالمقتولين خير لهم من مقامهم في الدنيا، وإما أن يكون بجرّ لفظ الجلالة على القسم، لتحقيق الرؤيا، ومعنى خير بعد ذلك على التفاؤل في تأويل الرؤيا. نقله القسطلّاني في "إرشاد الساري" 6/ 67 عن "المصابيح".
📝 فنی و نحوی نکتہ: "واللہ خیر" دو طرح سے ہو سکتا ہے: (1) اللہ کا فعل شہداء کے لیے دنیا میں رہنے سے بہتر (خیر) ہے۔ (2) "واللہ" (واؤ قسمیہ) یعنی اللہ کی قسم! اور "خیر" سے مراد خواب کی تعبیر میں نیک شگون لینا۔ (ارشاد الساری: 6/ 67)۔
والكتيبة: القطعة من الجيش.
📝 لغوی توضیح: "کتیبہ" سے مراد لشکر کا ایک دستہ یا ٹکڑی ہے۔