المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. من كنت وليه فإن عليا وليه
جس کا میں سرپرست ہوں اس کے سیدنا علی بھی سرپرست ہیں
حدیث نمبر: 2621
حدَّثَناه أبو أحمد بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيْرفي بمَرُو من أصل كتابه، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا يحيى بن حماد، حدثنا أبو عَوَانة، عن الأعمش، عن سعد بن عُبيدة، حدثني عبد الله بن بُريدة الأسلمي، قال: إني لأمشي مع أبي إذ مرَّ بقومٍ يَتَنقَّصون عليًّا، ويقولُون فيه، فقام فقال: إني كنت أَنالُ من عليٍّ، وفي نفسي عليه شيءٌ، وكنت مع خالد بن الوليد في جيش فأصابوا غنائمَ، فعَمَدَ عليٌّ إلى جاريةٍ من الخُمس، فأخذها لنفسه، وكان بين علي وبين خالد شيءٌ، فقال خالد: هذه فُرصتك - وقد عرف خالدٌ الذي في نفسي على عليّ - فانطلِقْ إلى النبي ﷺ فاذكُر ذلك له، فأتيتُ النبي ﷺ، فحدَّثتُه وكنتُ رجلًا مِكْبابًا، وكنتُ إذا حدَّثْتُ الحديثَ أكبَبْتُ، ثم رفعتُ رأسي، فذكرتُ للنبي ﷺ أمْرَ الجيشِ، ثم ذكرتُ له أمرَ عليٍّ، فرفعتُ رأسي، وأوداجُ رسولِ الله ﷺ قد احمرَّت، قال: فقال النبي ﷺ:"مَن كنتُ وَلِيَّه فإنَّ عليًّا وليُّه"، وذهَبَ الذي في نفسي عليه (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه البخاري من حديث علي بن سُويد بن مَنْجُوف، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، مختصرًا (1) ، وليس في هذا الباب أصح من حديث أبي عَوَانة هذا عن الأعمش عن سعد بن عُبيدة. وهكذا رواه وكيع بن الجرّاح عن الأعمش:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه البخاري من حديث علي بن سُويد بن مَنْجُوف، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، مختصرًا (1) ، وليس في هذا الباب أصح من حديث أبي عَوَانة هذا عن الأعمش عن سعد بن عُبيدة. وهكذا رواه وكيع بن الجرّاح عن الأعمش:
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ہمراہ جا رہا تھا کہ ان کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان میں تبرابازی کر رہے تھے، وہ بھی وہاں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے: میں بھی علی کا مخالف ہوا کرتا تھا اور ان کی عیب جوئی کیا کرتا تھا، میں ایک دفعہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک لشکر میں تھا ان کو بہت سارا مالِ غنیمت ملا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں آنے والی ایک لونڈی کو اپنے لیے رکھ لیا جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے درمیان معمولی اختلاف تھا کیونکہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق میرے مخالفانہ نظریات سے واقف تھے، اس لیے وہ مجھے کہنے لگے کہ تیرے لیے یہ موقع بہت غنیمت ہے، تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور (علی رضی اللہ عنہ کی اس حرکت کا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تذکرہ کرو (سیدنا بریدہ فرماتے ہیں) میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور گفتگو شروع کی میں مکباب (زمین پر نظر رکھنے والا) آدمی تھا اور جب میں گفتگو کرنے لگتا تو نظروں کو جھکا لیتا پھر میں اپنا سر اٹھاتا۔ بہرحال میں نے لشکر والا واقعہ سنا دیا، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی وہ بات بتائی۔ (گفتگو ختم کرنے کے بعد جب) میں نے سر اٹھایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں ولی ہوں، علی اس کا ولی ہے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سن کر) میرا ذہن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے متعلق صاف ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا، تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک مختصر حدیث نقل کی ہے جبکہ اس باب میں ابوعوانہ کی وہ حدیث سب سے زیادہ صحیح ہے جو انہوں نے اعمش کے واسطے سے سیدنا سعد بن عبیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور درج ذیل حدیث وکیع بن جراح نے اعمش سے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2621]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2621 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي قلابة، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع. أبو عوانة: هو الوضاح بن عبد الله اليشكُري، والأعمش: هو سليمان بن مهران. ¤ ¤ وأخرجه مختصرًا أحمد (38/ 22961)، والنسائي (8411)، وابن حبان (6930) من طريق أبي معاوية، عن الأعمش، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند قوی ہے۔ ابو قلابہ صدوق ہیں اور ان کی متابعت موجود ہے۔ 🧩 متابعات: اسے مختصراً امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے ابو معاویہ عن الاعمش کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريق وكيع بن الجراح عن الأعمش. وسيأتي بنحوه برقم (4629) من طريق ابن عباس عن بريدة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے وکیع عن الاعمش کے طریق سے اور نمبر (4629) پر ابن عباس عن بریدہ کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه بنحوه أحمد (38/ 23012)، والنسائي (8421) من طريق الأجلح بن عبد الله الكِنْدي، عن عبد الله بن بريدة، عن أبيه. ولفظ المرفوع آخره: "لا تَقَعَنَّ يا بُريدةُ في عليٍّ، فإنَّ عليًّا مني، وأنا منه، وهو وليُّكم بَعدي". هذا لفظ النسائي. والأجلح فيه لِينٌ.
🧩 متابعات: اسے اجلح بن عبد اللہ کے طریق سے بھی روایت کیا گیا ہے جس کے آخر میں الفاظ ہیں: "اے بریدہ! علی کے بارے میں (برا) نہ بولو، علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، اور وہ میرے بعد تمہارا ولی ہے۔" (اجلح کے حافظے میں تھوڑی کمزوری/لین ہے)۔
وانظر حديث عمران بن حُصين الآتي برقم (4630)، وحديث ابن عباس الآتي برقم (4702).
📖 حوالہ: عمران بن حصین (4630) اور ابن عباس (4702) کی احادیث ملاحظہ فرمائیں۔
والمِكباب: الكثير النظر إلى الأرض.
📝 لغوی توضیح: "المکباب" اس شخص کو کہتے ہیں جو کثرت سے زمین کی طرف نظریں جھکا کر رکھتا ہو۔
وقد استُشكِل قسمة عليٍّ لنفسه، وهو جائز في مثل ذلك ممن هو شَريك فيما يقسمه، كالإمام إذا قسم بين الرعيّة وهو منهم، فكذلك من نصّبه الإمام قام مقامه. انظر "فتح الباري" 12/ 622.
⚖️ فقہی نکتہ: حضرت علیؓ کے اپنے لیے (خمس سے) حصہ نکالنے پر اعتراض کیا گیا ہے، لیکن یہ جائز ہے کیونکہ وہ خود اس میں شریک تھے۔ جیسے امام رعایا میں تقسیم کرتے وقت اپنا حصہ لیتا ہے، ویسے ہی امام کا مقرر کردہ نائب بھی اسی کے قائم مقام ہوتا ہے۔ (فتح الباری: 12/ 622)۔
(1) أخرجه برقم (4350)، لكن بلفظ: "يا بُريدة، أتُبغضُ عليًّا؟ " فقلت: نعم، قال: "لا تُبغضْه، فإنَّ له في الخُمس أكثر من ذلك".
🧾 تفصیلِ روایت: یہ نمبر (4350) پر ان الفاظ کے ساتھ گزر چکی ہے: "اے بریدہ! کیا تم علی سے بغض رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ان سے بغض نہ رکھو، کیونکہ خمس میں ان کا حصہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔"