المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. تنفل الربع فى البدأة والثلث فى الرجعة
ابتدائی حملے میں چوتھائی اور واپسی پر تہائی نفل دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2631
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا الحسن بن شَبيب المَعْمَري، حدثنا عبد الله بن أحمد بن ذَكْوان ومحمود بن خالد الدمشقيان، قالا: حدثنا مروان بن محمد الدمشقي، حدثنا يحيى بن حمزة، قال: سمعت أبا وهبْ يقول: سمعت مكحولًا يقول: كنتُ عبدًا بمصر لامرأة من هُذَيل، فأعتقتْني، فما خرجتُ من مصر وبها عِلمٌ إِلَّا حَوَيتُ عليه فيما أُرى، ثم أتيتُ الشامَ فغربَلْتُها، كلَّ ذلك أسألُ عن النَّفَل فلم أجد أحدًا يخبرُني فيه بشيءٍ، حتى لقيتُ شيخًا يقال له: زياد بن جارية التَّمِيمي، فقلت له: هل سمعتَ في النَّفَل شيئًا؟ فقال: نعم، سمعت حبيبَ بن مَسْلَمة الفِهْري يقول: شهدتُ رسولَ الله ﷺ نَفَّل الربعَ في البَدْأة، والثلُثَ في الرَّجْعة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2598 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا مکحول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مصر میں (قبیلہ بنی) ہذیل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا غلام تھا۔ اس نے مجھے آزاد کر دیا، میں مصر سے نکلنے سے قبل ہر صاحب علم شخص کے پاس گیا، پھر شام میں آ گیا اور وہاں کے قابل ذکر علماء کے پاس گیا، سب سے میں نے مالِ غنیمت کے متعلق مسئلہ پوچھا لیکن مجھے ایسا کوئی شخص نہیں ملا تو مجھے اس کے متعلق کوئی تسلی بخش جواب دیتا۔ پھر زیاد بن جاریہ تمیمی نامی ایک پیرانہ سال آدمی سے میری ملاقات ہوئی، میں نے اس سے پوچھا: کیا تو نے غنیمت کے متعلق کوئی حدیث سُن رکھی ہے؟ اس نے جواباً کہا: جی ہاں۔ میں نے حبیب بن مسلمہ فھری کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے (وہ فرماتے ہیں کہ) میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آغاز میں چوتھا حصہ تقسیم کرتے اور بعد میں تیسرا حصہ۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2631]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2631 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو وهب: هو عُبيد الله بن عُبيد الكَلاعي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابو وہب" سے مراد عبید اللہ بن عبید الکلاعی ہیں۔
وأخرجه أبو داود (2750) عن عبد الله بن أحمد بن بَشير بن ذكوان ومحمود بن خالد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود نے (2750) میں عبد اللہ بن احمد بن بشیر بن ذکوان اور محمود بن خالد کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (29/ 17465)، وأبو داود (2749) من طريق العلاء بن الحارث، وابن ماجه (2853)، وابن حبان (4835) من طريق سليمان بن موسى الأشدق، كلاهما عن مكحول، به. بذكر المرفوع آخره، دون ذكر القصة، وسقط من إسناد ابن ماجه ذكر زياد بن جارية.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17465) اور ابو داود (2749) نے العلاء بن الحارث کے طریق سے، ابن ماجہ (2853) اور ابن حبان (4835) نے سلیمان بن موسیٰ الاشدق کے طریق سے، دونوں نے مکحول کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان روایات میں آخر میں مرفوع حصہ (نبی ﷺ کا قول) مذکور ہے لیکن قصہ ذکر نہیں کیا گیا، نیز ابن ماجہ کی سند سے "زیاد بن جاریہ" کا نام گر گیا ہے۔
وسيأتي بعده من طريق يزيد بن جابر، وبرقم (5563) من طريق ثابت بن ثوبان، وبرقم (5941) من طريق سعيد بن عبد العزيز، ثلاثتهم عن مكحول بذكر تنفيل الثلث فقط.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت اس کے بعد یزید بن جابر کے طریق سے، رقم (5563) پر ثابت بن ثوبان کے طریق سے اور رقم (5941) پر سعید بن عبد العزیز کے طریق سے آئے گی۔ یہ تینوں راوی مکحول سے صرف تہائی (ثلث) حصہ اضافی (تنفیل) دینے کا ذکر کرتے ہیں۔