المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
13. النهي عن بيع المغانم حتى تقسم وعن الحبالى حتى يضعن ما فى بطونهن
غنیمت کے مال کو تقسیم سے پہلے بیچنے اور حاملہ عورتوں کو بچے کی پیدائش سے پہلے بیچنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 2647
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني، حدثنا ابن أبي غَرَزة، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن منصور، عن رِبعي بن حِراش، عن علي، قال: لمَّا افتَتَح رسولُ الله ﷺ مكة، أتاهُ ناسٌ من قريش فقالوا: يا محمد، إنا حُلفاؤُك وقومُك، وإنه لَحِقَ بك أرِقّاؤُنا ليس لهم رغبةٌ في الإسلام، وإنهم فَرُّوا من العَمَل فاردُدْهم علينا، فشاوَرَ أبا بكر في أمرهم، فقال: صدَقوا يا رسول الله، وقال لعُمر:"ما تَرى؟" فقال مثلَ قول أبي بكر، فقال رسول الله ﷺ:"يا معشرَ قُريش، لَيَبعثَنَّ الله عليكم رجلًا منكم امتَحَنَ اللهُ قلبَه للإيمان، يضربُ رقابَكم على الدِّين"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا" قال عمر: أنا هو يا رسول الله؟ قال:"لا، ولكن خاصِفُ النَّعْل في المسجد"، وقد كان ألقَى نعلَه إلى عليٍّ يَخصِفُها. ثم قال: أما إني سمعتُه يقول:"لا تَكذِبُوا عليَّ، فإنه مَن يَكذِبْ عليَّ يَلِجِ النارَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2614 - على شرط مسلم
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے موقع پر کچھ قریشی لوگ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آ کر عرض کرنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے حلیف ہیں، ہمارے کچھ غلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں شرکت اختیار کر چکے ہیں جبکہ ان کو اسلام میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ لوگ محض کام سے بھاگتے ہیں، اس لیے ان کو ہماری طرف لوٹا دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہ لوگ سچ کہہ رہے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے بھی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے موقف کی تائید کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے قرشیو! میں تم پر ایک ایسا شخص نگران مقرر کروں گا، اللہ نے جس کا دل ایمان کے لیے آزما لیا ہے۔ وہ دین کے معاملے میں تمہاری گردنیں مارے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ! کیا وہ شخص ” میں “ ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: یا رسول اللہ کیا وہ شخص میں ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ وہ مسجد میں جوتے سلائی کرنیوالا شخص ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نعلین حفاظت کے لیے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دے دیا کرتے تھے۔ پھر سیدنا علی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا: علی کو مت جھٹلاؤ کیونکہ جو شخص علی کو جھٹلائے وہ جہنمی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2647]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2647 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بهذا السياق، تفرّد به شريك النخعي وهو سيّئ الحفظ، وقد اضطرب في متنه فأدخل حديثًا في حديث، فقد روى الحديثَ عن منصور بن المعتمر أبانُ بنُ صالح - وهو أحد الثقات - فيما سلف برقم (2608) وفيه أنَّ القصة حدثت في صلح الحديبية وليس فيه ذكر عليٍّ في وعيده ﷺ لقريش.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق و سباق کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت کے ساتھ شریک نخعی منفرد ہے جو کہ "سیئی الحفظ" (کمزور حافظے والا) ہے، اور اس نے متن میں اضطراب پیدا کرتے ہوئے ایک حدیث کو دوسری میں داخل کر دیا ہے۔ منصور بن معتمر سے یہی حدیث "ابان بن صالح" (جو کہ ثقہ راوی ہیں) نے رقم (2608) پر روایت کی ہے، جس میں صراحت ہے کہ یہ واقعہ "صلح حدیبیہ" کا ہے اور اس میں قریش کو دی جانے والی وعید میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں ہے۔
وأما الحديث الآخر، فقد رواه أبو سعيد الخُدْري مرفوعًا بلفظ: "إنَّ منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلتُ على تنزيله"، وفيه قصة استشراف أبي بكر وعمر لذلك، وسيأتي عند المصنف برقم (4671)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: جہاں تک دوسری حدیث کا تعلق ہے، تو اسے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے مرفوعاً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "تم میں سے وہ شخص (بھی) ہے جو قرآن کی تاویل (غلط تشریح کے خلاف) پر اسی طرح قتال کرے گا جیسے میں نے اس کے نزول پر قتال کیا"۔ اس میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی اس فضیلت کی طرف رغبت (استشراف) کا قصہ بھی ہے، اور یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں آگے رقم (4671) پر آئے گی، اور اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (2/ 1336)، والنسائي (8362) من طريق أسود بن عامر، والترمذي (3715) من طريق وكيع بن الجراح، كلاهما عن شريك النخعي، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (2/ 1336) اور نسائی (8362) نے اسود بن عامر کے طریق سے، اور ترمذی (3715) نے وکیع بن الجراح کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں اسے شریک نخعی سے اسی سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح غریب" قرار دیا ہے۔
وسيأتي من طريق أبي نعيم وأبي غسان عن شريك النخعي برقم (8013).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے ابو نعیم اور ابو غسان عن شریک نخعی کے طریق سے رقم (8013) پر آئے گی۔
وانظر ما تقدم برقم (2591).
📝 نوٹ / توضیح: اس حوالے سے سابقہ روایت رقم (2591) ملاحظہ فرمائیں۔
وروى زيد بن يُثيع عن أبي ذر الغفاري عند النسائي (8403) قال: قال رسول الله ﷺ: "لينتهين بنو وَلِيعة أو لأبعثن إليهم رجلًا كنفسي ينفذ فيهم أمري، فيقتل المقاتلة ويسبي الذريّة" قال أبو ذرّ: فما راعني إلّا وكفُّ عمر في حُجزتي من خلفي: مَن يعني؟ فقلت: ما إيّاك يعني، ولا صاحبك، قال: فمن يعني؟ قال: خاصف النعل، قال: وعليٌّ يَخصِف نعلًا. وإسناده فيه لِين، زيد بن يثيع تفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي ولا يعرف له سماع من أبي ذر. وبنو وليعة قوم من كِندة. ¤ ¤ وأخرج القطعة الأخيرة من حديث الباب - وهو قوله: "لا تكذبوا عليَّ … " - أحمد 2/ (629) و (630) و (1000) و (1001) و (1292)، والبخاري (106)، ومسلم (1) من طريق شعبة، عن منصور، به.
🧾 تفصیلِ روایت: زید بن یثیع نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا (نسائی: 8403) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "بنو ولیعہ (کندہ کا ایک قبیلہ) اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں ورنہ میں ان کی طرف ایسے شخص کو بھیجوں گا جو میری مثل (میری جان کی طرح) ہوگا، وہ ان میں میرا حکم نافذ کرے گا، ان کے جنگجوؤں کو قتل کرے گا اور ذریت کو قیدی بنائے گا"۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اچانک چونک گیا جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیچھے سے میرا کمر بند (حجزہ) پکڑ کر پوچھا: آپ ﷺ کی مراد کون ہے؟ میں نے کہا: اس سے مراد نہ تم ہو اور نہ تمہارے ساتھی (ابوبکر)، بلکہ اس سے مراد "جوتا ٹانکنے والا" ہے، اور اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ جوتا ٹانک رہے تھے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے؛ زید بن یثیع سے روایت کرنے میں ابو اسحاق سبیعی اکیلے ہیں اور زید کا حضرت ابوذر سے سماع بھی معلوم نہیں ہے۔ 📌 اہم نکتہ: اس باب کی حدیث کا آخری ٹکڑا "مجھ پر جھوٹ نہ بولو..." امام احمد (2/ 629، 630، 1000، 1001، 1292)، بخاری (106) اور مسلم (1) نے شعبہ عن منصور کی سند سے روایت کیا ہے۔