🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. يجير على أمتي أدناهم .
میری امت کا ادنیٰ فرد بھی امان دے سکتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2657
فأخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبَيري، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"يُجِيرُ على أُمتي أدناهُم" (2) . وأما حديثُ عمرو بن العاص فمعروف في قتلِه محمدَ بن أبي بكر لما دَخَلَ عليه، قال له: محمدُ بن أبي بكر؟ قال: نعم، قال: بأمانٍ جئتَ؟ قال: لا، قال: فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"المسلمون تَتكافأُ دماؤُهم" الحديث (3) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا ادنیٰ آدمی بھی امان دینے کا مجاز ہے۔ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2657]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2657 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل كثير بن زيد - وهو الأسلَمي - والوليد بن رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور یہ سند کثیر بن زید اور ولید بن رباح کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد (14/ 8780) من طريق سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (14/ 8780) نے سلیمان بن بلال عن کثیر بن زید کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (15/ 9173) من طريق أبي صالح، عن أبي هريرة، بلفظ: "ذِمّة المسلمين واحدة، يسعى بها أدناهم، فمن أخفر مسلمًا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين، لا يقبل اللهُ منه يوم القيامة صَرْفًا ولا عدلًا". وإسناده صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/ 9173) نے بھی ابو صالح عن ابی ہریرہ کے طریق سے ان الفاظ میں روایت کیا ہے: "مسلمانوں کا ذمہ (امان) ایک ہے، ان کا ادنیٰ شخص بھی اس کے لیے کوشش کر سکتا ہے۔ جس نے کسی مسلمان کے عہد کو توڑا، اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے، قیامت کے دن اللہ اس کا کوئی فرض یا نفل (صرف و عدل) قبول نہیں کرے گا"۔ اس کی سند صحیح ہے۔
وسيأتي عند المصنف بلفظ رواية الوليد بن رباح من حديث عائشة برقم (5110) بسند حسن، ومن حديث أم سلمة برقم (7015) بسند حسن أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ولید بن رباح کے الفاظ میں رقم (5110) پر آئے گی جس کی سند حسن ہے، اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے رقم (7015) پر آئے گی اور اس کی سند بھی حسن ہے۔
(3) كذا قال المصنف، والمعروف في رواية هذا الحديث أنَّ عمرو بن العاص قال له: قال رسول الله ﷺ: "يُجير على المسلمين أدناهم" ولم يقل له سوى ذلك، فهذا نص رواية عمرو بن العاص كما أخرجه أحمد (29/ 17765) وغيره من طريق شعبة، عن عمرو بن دينار، عن رجل من أهل مصر يُحدّث عن عمرو بن العاص، أنه قال: أُسِر محمد بن أبي بكر، قال: فجعل عمرو يسأله يُعجِبُه أن يدّعيَ أمانًا، قال: فقال عمرو … فذكره. وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل المصري، لكن مرفوعه صحيح بحديثي علي وأبي هريرة السابقين.
⚖️ درجۂ حدیث: مصنف (حاکم) نے جو ذکر کیا وہ اپنی جگہ، مگر اس حدیث کی مشہور روایت یہ ہے کہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بکر (جو قید ہوئے تھے) کے بارے میں کہا: "مسلمانوں کا ادنیٰ شخص بھی امان دے سکتا ہے"۔ 🔍 فنی نکتہ: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں ایک مصری راوی مبہم (نامعلوم) ہے، لیکن اس کا مرفوع حصہ سابقہ علی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی احادیث کی وجہ سے صحیح ہے۔