المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. دعاؤه صلى الله عليه وآله وسلم إذا خاف قوما
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی دعا جب آپ کو کسی قوم سے خطرہ ہوتا
حدیث نمبر: 2660
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ وإبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، عن داود بن أبي هند، عن عِكرمة، عن ابن عباس، قال: كان رجلٌ من الأنصار أسلم ثم ارتدّ، فلحِق بالمشركين، ثم ندم فأرسل إلى قومه: أن سَلُوا رسولَ الله ﷺ هل لي مِن توبةٍ؟ قال: فنزلت: ﴿كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ قَوْمًا كَفَرُوا بَعْدَ إِيمَانِهِمْ﴾ إلى قوله: ﴿إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [آل عمران: 86 - 89] ، قال: فأرسل إليه قومُه فأسلَمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2628 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2628 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک انصاری شخص مسلمان ہوا پھر مرتد ہو کر مشرکوں سے جا مِلا لیکن پھر نادم ہو کر اس نے اپنی قوم کی جانب پیغام بھیجا کہ میرے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں کہ کیا میرے لیے توبہ کی کوئی گنجائش ہے؟ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما) فرماتے ہیں تب یہ آیت: ( «کَیْفَ یَھْدِیَ اللّٰہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ …… اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ وَاَصْلَحُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ) (آل عمران: 96) تک نازل ہوئی۔ ” کیونکر اللہ یسی قوم کی ہدایت چاہے جو ایمان لا کر کافر ہو گئے اور گواہی دے چکے تھے کہ رسول سچا ہے اور انہیں کھلی نشانیاں آ چکی تھیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان پر لعنت ہے اللہ اور فرشتوں اور آدمیوں کی سب کی ہمیشہ اس میں رہیں نہ ان پر سے عذاب ہلکا ہو اور نہ انہیں مہلت دی جائے، مگر جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کر لی تو ضرور اللہ بخشنے والا مہربان ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے قبیلہ (کے ہاتھوں پیغام) بھیجوایا (کہ تیرے لیے توبہ کی گنجائش موجود ہے) تو وہ شخص دوبارہ مسلمان ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2660]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2660 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد (4/ 2218) عن علي بن عاصم، والنسائي (3517) و (10999)، وابن حبان (4477) من طريق يزيد بن زُريع، كلاهما عن داود بن أبي هند، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے علی بن عاصم سے اور نسائی و ابن حبان نے یزید بن زریع کے طریق سے، دونوں نے داؤد بن ابی ہند کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔