المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. إن الجنة لا تحل لعاص .
نافرمان کے لیے جنت حلال نہیں
حدیث نمبر: 2675
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو الجُماهِر محمد بن عثمان التَّنُوخي وأبو تَوْبة الربيع بن نافع الحلبي، قالا: حدثنا الهيثم بن حُميد، أخبرني راشد بن داود الصنعاني، حدثنا أبو أسماء الرَّحَبي، عن ثَوْبان مولى رسول الله ﷺ، عن رسول الله ﷺ أنه قال في مَسيرٍ له:"إنا مُدلِجُون الليلةَ إن شاء الله، فلا يَرحلَنَّ معنا مُضعِفٌ ولا مُصعِب"، فارتحَلَ رجلٌ على ناقةٍ له صعبةٍ، فسقط فاندقّت عنقُه فمات، فأَمر رسولُ الله ﷺ أن يُدفَن، ثم أمر بلالًا فنادى:"إنَّ الجنَّةَ لا تَحِلُّ لعاصٍ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. كتاب قتال أهل البَغي وهو آخر الجهاد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2643 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. كتاب قتال أهل البَغي وهو آخر الجهاد
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2643 - سكت عنه الذهبي في التلخيص_x000D_ كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک سفر میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس رات ہم تمام شب سفر کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، اس لیے ہمارے ہمراہ کوئی کمزور اور سرکش سواری والا نہ چلے، (لیکن اس کے باوجود) ایک آدمی اپنے سرکش اونٹ پر سوار ہو کر ہمارے ہمراہ چل دیا، وہ (راستے میں ایک جگہ) گر پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تدفین کا حکم دیا، پھر سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ یہ اعلان کر دو: بے شک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قسم الفيء/حدیث: 2675]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2675 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حسن لغيره، وهذا إسناد فيه لِين من أجل راشد بن داود الصنْعاني، فهو مختَلف فيه، وثَّقه ابن معين ودُحيم، وقال عنه البزار في "مسنده" (4174): ليس بن بأس، وضعفه البخاري والدارقطني، لكن رُويت هذه القصة التي ذكرها من طريقٍ مرسلةٍ رجالها ثقات، على أنَّ المرفوع آخره قد رُوي من وجه آخر مرسل عن النبي ﷺ رجاله ثقات أيضًا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے، البتہ اس کی اس سند میں راشد بن داود صنعانی کی وجہ سے "لین" (کمزوری) ہے؛ ان کے بارے میں اختلاف ہے، ابن معین اور دحیم نے ثقہ کہا، بزار نے کہا "کوئی حرج نہیں"، جبکہ بخاری اور دارقطنی نے انہیں ضعیف کہا۔ تاہم یہ قصہ ایک مرسل طریق سے بھی مروی ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، نیز حدیث کا آخری مرفوع حصہ ایک اور مرسل طریق سے مروی ہے جس کے راوی بھی ثقہ ہیں۔
وأخرجه أحمد (37/ 22364) من طريق إسماعيل بن عياش، عن راشد بن داود، به. وحسَّنه الهيثمي في "مجمع الزوائد" 3/ 41.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (37/22364) نے اسماعیل بن عیاش از راشد بن داود کے طریق سے روایت کیا ہے، اور علامہ ہیثمی نے "مجمع الزوائد" (3/41) میں اسے "حسن" قرار دیا ہے۔
ويشهد للحديث مرسل القاسم بن عبد الرحمن الدمشقي عند سعيد بن منصور في "سننه" (2493)، ورجاله ثقات، وفيه أنَّ هذه الحادثة كانت في خيبر. وقد رُوي هذا المرسل من وجه آخر موصولًا بذكر أبي أمامة عند الرُّوياني في "مسنده" (1234)، والطبراني في "الكبير" (7792) و (7793)، وفيه ليث بن أبي سليم، وهو سيئ الحفظ فلا يُعتد بوصله للخبر.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کی تائید قاسم بن عبدالرحمن الدمشقی کی مرسل روایت سے ہوتی ہے جو سعید بن منصور (2493) کے ہاں ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، اس میں ذکر ہے کہ یہ واقعہ "خیبر" میں پیش آیا تھا۔ یہی مرسل روایت رویانی (1234) اور طبرانی (7792، 7793) کے ہاں حضرت ابو امامہ کے ذکر کے ساتھ "موصول" بھی مروی ہے، لیکن اس میں "لیث بن ابی سلیم" ہے جو کہ سیئی الحفظ (برے حافظے والا) ہے، اس لیے اس کے موصول کرنے کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
وقد روي آخر الحديث المرفوع منه في قصة أيضًا من مرسل عروة بن الزُّبَير عند أبي داود في "المراسيل" (319)، ورجاله ثقات أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: اس حدیث کا آخری مرفوع حصہ ایک قصے کے ضمن میں عروہ بن زبیر کی مرسل روایت میں بھی ہے جو ابوداؤد کی "المراسیل" (319) میں مروی ہے، اور اس کے راوی بھی ثقہ ہیں۔