🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. حُكْمُ الْبُغَاةِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کے باغیوں کے احکام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2695
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، قال: لما قُتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حَزْم على عمرو بن العاص، فقال: قُتل عمار، وقد قال رسول الله ﷺ:"تقتلُه الفئةُ الباغِية"، فقام عمرو بن العاص فَزِعًا حتى دخل على معاوية، فقال له معاوية: ما شأنُك؟ فقال: قُتل عمار، فقال معاوية: قُتل عمار، فماذا؟! فقال عمرو: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"تقتله الفئةُ الباغِيةُ"، فقال له معاوية: دَحَضْتَ في بَولِك، أوَنحن قتلناه؟! إنما قتلَه عليٌّ، وأصحابُه، جاؤوا به حتى ألقَوه بين رماحِنا؛ أو قال: بين سيوفنا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2663 - على شرط البخاري ومسلم
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو عمرو بن حزم، سیدنا عمرو بن العاص کے پاس گئے اور کہا: عمار قتل کر دیے گئے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا یہ سن کر عمرو بن العاص گھبرا کر اٹھے اور معاویہ کے پاس پہنچے، معاویہ نے پوچھا: آپ کو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: عمار قتل کر دیے گئے ہیں، معاویہ نے کہا: عمار قتل ہو گئے تو کیا ہوا؟ عمرو نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: اسے ایک باغی گروہ قتل کرے گا اس پر معاویہ نے ان سے کہا: تم بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہیں تو علی اور ان کے ساتھی قتل کرنے کے ذمہ دار ہیں جو انہیں اپنے ساتھ لے کر آئے یہاں تک کہ انہیں ہمارے نیزوں (یا فرمایا: تلواروں) کے سامنے لا ڈالا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب قتال أهل البغي وهو آخر الجهاد/حدیث: 2695]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،وسيأتي مكررًا برقم (5763).» [ترقيم الرساله 2695] [ترقيم الشركة 2678] [ترقيم العلميه 2663]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2695 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. وسيأتي مكررًا برقم (5763).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت آگے دوبارہ حدیث نمبر 5763 پر آئے گی۔
وأخرجه أحمد 29/ (17778) عن عبد الرزاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام احمد (29/17778) نے اسے عبد الرزاق کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
دَحَضْتَ، أي: زَلِقْتَ، كأنه يدعو عليه، ويروى بالصاد المهملة أيضًا بدل المعجمة، بمعنى: بَحَثْتَ في بولك برجلك.
📝 نوٹ / توضیح: "دحضت" کا معنی ہے: "تمہارا پاؤں پھسل گیا"، گویا یہ بددعا کے طور پر کہا گیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے ضاد کے بجائے صاد کے ساتھ "دحست" بھی روایت کیا گیا ہے، جس کا معنی ہے: "تم نے اپنے پیر سے اپنے پیشاب میں کریدا (تلاش کیا)"۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2695 in Urdu