🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. حُكْمُ الْبُغَاةِ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
اس امت کے باغیوں کے احکام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2694
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يوسف بن عبد الله الخُوارزمي ببيت المقدس، حدثنا عبد الملك بن عبد العزيز التمَّار. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أحمد بن علي الخزّاز (1) ، حدثنا أبو نصر التمّار، حدثنا كَوثَر بن حَكيم، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ لعبد الله بن مسعود:"يا ابنَ مسعود، أتدري ما حُكم اللهِ فيمن بَغَى مِن هذه الأُمة؟" من قال ابن مسعود: الله ورسوله أعلم، قال:"فإنَّ حُكم الله فيهم أن لا يُتبَعَ مُدبِرُهم، ولا يُقتَلَ أسِيرُهم، ولا يُذفَّفَ على جَريحِهم" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2662 - كوثر بن حكيم متروك
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابن مسعود! کیا تم جانتے ہو کہ اس امت کے باغیوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا کیا فیصلہ ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں پیٹھ دے کر بھاگنے والے کو قتل نہ کیا جائے۔ ان کے قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے اور ان کے زخمیوں کو قتل نہ کیا جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2694]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2695
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن عبد الله بن طاووس، عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، قال: لما قُتل عمار بن ياسر دخل عمرو بن حَزْم على عمرو بن العاص، فقال: قُتل عمار، وقد قال رسول الله ﷺ:"تقتلُه الفئةُ الباغِية"، فقام عمرو بن العاص فَزِعًا حتى دخل على معاوية، فقال له معاوية: ما شأنُك؟ فقال: قُتل عمار، فقال معاوية: قُتل عمار، فماذا؟! فقال عمرو: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"تقتله الفئةُ الباغِيةُ"، فقال له معاوية: دَحَضْتَ في بَولِك، أوَنحن قتلناه؟! إنما قتلَه عليٌّ، وأصحابُه، جاؤوا به حتى ألقَوه بين رماحِنا؛ أو قال: بين سيوفنا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا محمد بن عمر بن حزم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کہنے لگے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا تجھے باغی گروہ قتل کرے گا ۔ تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ گھبرا کر اٹھے اور فوراً سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور ان کو بتایا کہ عمار کو شہید کر دیا گیا ہے۔ معاویہ بولے: عمار کو قتل کر دیا گیا ہے تو کیا ہوا؟ عمرو بولے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اس کو باغی گروہ قتل کرے گا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تو خود اپنے ہی پیشاب میں پھسلا ہے ہم نے اس کو تھوڑی قتل کیا ہے۔ اس کے قتل کے ذمہ دار علی اور اس کے ساتھی ہیں جو ان کو لا کر ہمارے نیزوں میں ڈال گئے یا (شاید یہ فرمایا) ہماری تلواروں میں ڈال گئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2695]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2696
أخبرنا أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أبي، عن محمد بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حَزْم، عن أبيه، عن عَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة، أنها قالت: ما رأيتُ مثلَ ما رَغِبَتْ عنه هذه الأُمة مِن هذه الآية: ﴿وَإِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِنْ بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ﴾ [الحجرات: 9] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2664 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: یہ امت جس قدر اس آیت (پر عمل کرنے) سے اعراض کرتی ہے، میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا (وہ آیت یہ ہے): (وَاِنْ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا فَاِنْ م بَغَتْ اِحْدٰھُمَا عَلَی الْاُخْرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتّٰی تَفِیْٓئَ اِلٰٓی اَمْرِ اللّٰہِ) (الحجرات: 9) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان کے میں صلح کراؤ پھر اگر ایک، دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو، یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2696]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں