المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. خير هذه الأمة أكثرها نساء .
اس امت کی بھلائی اس کی عورتوں کی کثرت میں ہے
حدیث نمبر: 2709
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الخَضِرُ بن أبان الهاشمي، حدثنا سيَّار بنُ حاتِم، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"حُبِّب إليَّ النساءُ والطِّيبُ، وجُعِلَ قُرَّةُ عَيني في الصلاة" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2676 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2676 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے دل میں عورت اور خوشبو کی محبت ڈال دی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2709]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2709 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف الخضر بن أبان، لكنه متابع، وسيار بن حاتم يُعتبر به، وقد روي الحديث من وجهين آخرين.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث بذاتِ خود صحیح ہے، اگرچہ یہ مخصوص سند "خضر بن ابان" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، اور سیار بن حاتم کی روایت قابلِ اعتبار (یعتبر بہ) ہے، نیز یہ حدیث دو دیگر طرق سے بھی مروی ہے۔
وأخرجه النسائي (8837) عن علي بن مسلم الطُّوسي، عن سيار بن حاتم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے اپنی کتاب "السنن الکبریٰ" (8837) میں علی بن مسلم الطوسی عن سیار بن حاتم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 19/ (12293) من طريق أبي المنذر سلّام بن سليمان، عن ثابت، به. وسلّام صدوق، وقوَّى الذهبي إسناده في ترجمته في "الميزان".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (19/12293) پر ابوالمنذر سلام بن سلیمان عن ثابت (البنانی) کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ راوی و حدیث: سلام "صدوق" (سچے) ہیں، اور امام ذہبی نے "میزان الاعتدال" میں ان کے حالات کے تحت اس سند کو قوی قرار دیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (5772) من طريق يحيى بن عثمان الحربي، عن الهقل بن زياد، ¤ ¤ عن الأوزاعي، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة، عن أنس بن مالك. وقد تكلم بعضهم في رواية يحيى المذكور عن هقل، لكنه لم ينفرد بالحديث، بل تابعه عمرو بن هاشم البيروتي على هذا الإسناد بذكر الصلاة عند الضياء المقدسي في "الأحاديث المختارة" 4/ (1532).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے "المعجم الاوسط" (5772) میں یحییٰ بن عثمان الحربی عن ہقل بن زیاد عن اوزاعی کی سند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: اگرچہ بعض محدثین نے یحییٰ کی ہقل سے روایت پر کلام کیا ہے، لیکن وہ اس میں تنہا نہیں ہیں، بلکہ عمرو بن ہاشم بیروتی نے ضیاء مقدسی کی "الاحادیث المختارہ" (4/1532) میں اسی سند کے ساتھ ان کی متابعت (تائید) کی ہے۔