🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. تزوجوا النساء فإنهن يأتينكم بالمال .
عورتوں سے نکاح کرو، وہ تمہارے لیے مال و رزق کا سبب بنتی ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2713
أخبرنا محمّد بن علي بن دُحَيم الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدثنا خالد بن مَخْلد، حدثني محمد بن موسى، عن سعد بن إسحاق ابن كعب بن عُجْرة، عن عمّته، قالت: حدثني أبو سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"تُنكَحُ المرأةُ على إحدى خِصالٍ ثلاثٍ: تُنكَح المرأةُ على جَمالِها، وتُنكَح المرأة على دِينها وخُلُقها، فعليكَ بذات الدِّين تَرِبَتْ يَمينُك" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2680 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی عورت سے تین میں سے کسی ایک خصوصیت کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے: (1) خوبصورتی۔ (2) دین۔ (3) اخلاق۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں دین والی خاتون کو تم ترجیح دو۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2713]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2713 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خالد بن مخلد - وهو القَطَواني - صدوق، وقد توبع، وعمّة سعد: هي زينب بنت كعب بن عجرة، زوجة أبي سعيد الخدري، روى عنها ابنا أخويها، وذكرها ابن حبان في "الثقات". محمد بن موسى: هو الفِطْري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 راویوں کی پہچان: خالد بن مخلد القٹوانی "صدوق" ہیں، سعد کی پھوپھی "زینب بنت کعب بن عجرہ" ہیں جو حضرت ابوسعید خدری کی زوجہ تھیں، امام ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں شمار کیا ہے۔ محمد بن موسیٰ "الفطری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 18/ (11765) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، عن محمد بن موسى، بهذا الإسناد. وزاد فيه ذكر المال.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (18/11765) پر عبد الرحمن بن مہدی عن محمد بن موسیٰ کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں "مال" کا تذکرہ بھی زیادہ ہے۔
(2) يعني زيادة ذكر الخُلُق، وذلك أنَّ هذا الحديث رواه أيضًا أبو هريرة عند البخاري (5090)، ومسلم (1466) وغيرهما، وكذلك رواه جابر بن عبد الله عند مسلم (1466) (54) وغيره، بذكر الدّين دون الخُلُق. وزادا فيه خصلة رابعة: وهي الحَسَب؛ يعني شرف نسبها.
📝 وضاحتِ متن: یہاں "خلق" (اخلاق) کے ذکر کا اضافہ ہے، جبکہ بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت جابر کی روایات میں صرف "دین" کا ذکر ہے، اخلاق کا نہیں۔ ان روایات میں چوتھی خصلت "حسب" (خاندانی شرافت) کا بھی ذکر ہے۔