🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. ثلاث من السعادة وثلاث من الشقاوة .
تین چیزیں سعادت کی ہیں اور تین بدبختی کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2717
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّة الأصبَهاني، حدثنا عبد الله بن محمد بن زكريا الأصبَهاني، حدثنا محمد بن بُكير الحَضْرمي، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا أبو إسحاق الشَّيباني، عن أبي بكر بن حَفْص، عن محمد بن سعد، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"ثلاث من السَّعادة، وثلاث من الشَّقاوة، فمن السَّعادة: المرأةُ تراها تُعجِبُك، وتَغيبُ فتَأمنُها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون وَطِيَّةً فتُلحِقُك بأصحابِك، والدارُ تكونُ واسعةً كثيرةَ المَرافقِ، ومن الشَّقاوة: المرأة تَراها فتَسوءُك، وتَحمِلُ لسانَها عليك، وإن غِبتَ عنها لم تأمنْها على نفسِها ومالِك، والدابةُ تكون قَطُوفا فإن ضربتَها أتعبَتكَ، وإن تركتَها لم تُلحِقْكَ بأصحابِك، والدارُ تكون ضيقةً قليلةَ المَرافق" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد مِن خالد بن عبد الله الواسطي إلى رسول الله ﷺ، تفرَّد به محمد بن بُكير عن خالد، إن كان حَفِظَه فإنه صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2684 - محمد قال أبو حاتم صدوق يغلط وقال يعقوب بن شيبة ثقة
سیدنا محمد بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین چیزیں سعادت کی علامت ہیں اور تین چیزیں بدبختی کی۔ سعادت میں سے یہ چیزیں ہیں: (1) ایسی عورت کہ جب تو اس کو دیکھے تو وہ تجھے خوش کرے۔ جب تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنے نفس اور تیرے مال کی نگرانی کرے۔ (2) تیز رفتار سواری جو تجھے تیرے ہمراہیوں کے ساتھ ساتھ رکھے۔ (3) ایسا وسیع گھر جس میں تمام سہولتیں موجود ہوں۔ (جو تین چیزیں انسان کی) بدبختی (ہیں وہ) یہ ہیں: (1) ایسی بیوی کہ جب تو اسے دیکھے تو تجھے پریشان کر دے، تیرے خلاف زبان درازی کرے اور اگر تو اس سے غائب ہو تو وہ اپنی ذات کی اور تیرے مال کی حفاظت نہ کرے۔ (2) ایسی سست رفتار سواری اگر تو اس کے ساتھ پیدل چلے تو وہ تجھ کو تھکا دے اور اگر تو اس پر سواری کرے تو وہ تجھے تیرے ساتھیوں کے ساتھ ملا نہ سکے۔ (3) ایسا تنگ مکان جس میں بہت کم سہولیات ہوں۔ ٭٭ خالد بن عبداللہ واسطی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو خالد سے روایت کرنے میں محمد بن بکیر منفرد ہیں، اگر یہ اس تفرد سے سلامت ہے تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2717]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2717 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي من أجل محمد بن بُكير الحضرمي، فهو صدوق لا بأس به. خالد بن عبد الله: هو الواسطي، وأبو إسحاق الشَّيباني: هو سليمان بن أبي سليمان فيروز، وأبو بكر بن حفص: كذا وقع مسمًّى هنا، وهو وهمٌ، صوابه: أبو بكر بن أبي موسى، وهو الأشعري، كما وقع مسمًّى عند ابن المنذر والبزار، وسعد: هو ابن أبي وقاص.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن بکیر الحضرمی کی وجہ سے اسناد "قوی" ہے کیونکہ وہ صدوق ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خالد بن عبد اللہ سے مراد "الواسطی" ہیں اور ابو اسحاق الشیبانی سے مراد "سلیمان بن ابی سلیمان فیروز" ہیں۔ یہاں "ابو بکر بن حفص" کا نام "وہم" ہے، درست نام "ابو بکر بن ابی موسیٰ الاشعری" ہے جیسا کہ ابن المنذر اور بزار کے ہاں صراحت ہے، اور سعد سے مراد "سعد بن ابی وقاص" ہیں۔
وأخرجه ابن المنذر في "الأوسط" (7123) عن محمد بن إسماعيل الصائغ، عن محمد بن بُكير، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن المنذر نے "الاوسط" (7123) میں محمد بن اسماعیل الصائغ عن محمد بن بکیر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار (1187) من طريق عمرو بن عون، عن خالد بن عبد الله، به. مختصرًا بلفظ: "مِن السعادة المرأة الصالحة والمنزل الواسع والمركب الهنيء".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بزار (1187) نے عمرو بن عون عن خالد بن عبد اللہ (الواسطی) کے واسطے سے مختصراً ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: "خوش بختی میں سے نیک عورت، کشادہ گھر اور پرسکون سواری ہے"۔
وقد تقدم برقم (2672) من طريق إسماعيل بن محمد بن سعد عن أبيه، بنحوه مختصرًا.
📝 نوٹ / توضیح: یہ روایت اس سے قبل نمبر (2672) پر اسماعیل بن محمد بن سعد عن ابیہ کے واسطے سے اسی طرح مختصراً گزر چکی ہے۔
والقَطوف: البطيء.
📝 نوٹ / توضیح: "القطوف" سے مراد سست رفتار (جانور یا سواری) ہے۔