🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. استخارة خطبة المرأة يريد نكاحها
جو عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرے اس کا نکاح باطل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2740
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي بمَرْو، حدثنا محمد بن معاذ. وأخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بهَمَذان، حدثنا محمد بن الجَهْم السِّمَّري؛ قالا: حدثنا أبو عاصم الضحّاك بن مَخْلد، حدثنا ابن جُرَيج، قال: سمعت سليمان بن موسى يقول: حدثنا الزُّهْري، قال: سمعتُ عُروة يقول: سمعت عائشةَ تقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"أيُّما امرأةٍ نَكَحَتْ بغير إذن وليِّها، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فنِكاحُها باطِلٌ، فإن أصابها فلها مهرُها بما أصابها، وإن تَشاجَرُوا، فالسلطانُ وَليُّ مَن لا وَليَّ له" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد تابع أبا عاصم على ذكر سماع ابنِ جُرَيج من سليمان بن موسى وسماع سليمان بن موسى من الزُّهْري: عبد الرزاق بن همّام ويحيى بن أيوب وعبد الله بن لَهِيعة وحَجّاج بن محمد المِصِّيصي. أما حديث عبد الرزاق:
محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کے باپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک جماعت کو ولیمہ کی دعوت دی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف لائے، ان میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے برکت کی دعا دی اور واپس چلے گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2740]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن معاذ» [ترقيم الرساله 2740] [ترقيم الشركة 2721]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2740 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، محمد بن معاذ - وهو ابن يوسف السُّلَمي المروَزي - روى عنه جمع من الحفاظ، ولا يُعرف بجرح، وسليمان بن موسى قوي الحديث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن معاذ (محمد بن یوسف السلمی المروزی) سے حفاظِ حدیث کی ایک جماعت نے روایت کی ہے اور ان پر کوئی جرح معلوم نہیں، نیز سلیمان بن موسیٰ "قوی الحدیث" راوی ہیں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24205)، وأبو داود (2083)، وابن ماجه (1879)، والترمذي (1102)، والنسائي (5373)، وابن حبان (4074) و (4075) من طرق عن ابن جُرَيج، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حديث حسن. وانظر تمام الكلام عليه في "مسند أحمد".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/ 24205)، ابوداؤد (2083)، ابن ماجہ (1879)، ترمذی (1102)، نسائی (5373) اور ابن حبان (4074 و 4075) نے ابن جریج کے مختلف طرق سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حدیث حسن" کہا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس پر مکمل بحث دیکھنے کے لیے "مسند احمد" (طبع الرسالہ) ملاحظہ کریں۔
وأخرجه أحمد 40/ (24372)، وأبو داود (2084) من طريق ابن لهيعة، عن جعفر بن ربيعة، عن الزُّهْري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (40/ 24372) اور ابوداؤد (2084) نے ابن لہیعہ عن جعفر بن ربیعہ عن ابن شہاب الزہری کی سند سے مذکورہ بالا روایت کے مطابق نقل کیا ہے۔
وانظر الأحاديث الثلاثة التالية.
📝 نوٹ / توضیح: اگلی تین احادیث ملاحظہ فرمائیں۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2740 in Urdu