🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. السلطان ولي من لا ولي له .
جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُميل، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصّغَاني، حدثنا هاشم بن القاسم وعبيد الله بن موسى، قالا: حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسرائيل. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه وأبو بكر بن إسحاق الإمام، قالا: حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نِكَاحَ إلّا بوَليٍّ" (1) . هذه الأسانيد كلها صحيحة، وقد عَلَونا فيها عن إسرائيل، وقد وَصَلَه الأئمة المتقدمون الذين نَنزلُ في رواياتهم عن إسرائيل مثل عبد الرحمن بن مَهْدي ووكيع ويحيى بن آدم ويحيى بن زكريا بن أبي زائدة وغيرهم، وقد حَكَموا لهذا الحديث بالصحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
مذکورہ متعدد سندوں کے ہمراہ ابوموسیٰ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد منقول ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا ٭٭ یہ تمام سندیں صحیح ہیں، ان میں اسرائیل کے حوالے سے ہماری سند عالی ہے اور اس کو متقدمین ائمہ حدیث نے متصل کیا ہے، جن کی اسرائیل کے حوالے سے سند عالی نہیں ہے۔ مثلاً عبدالرحمان بن محصدی، وکیع، یحیی بن آدم، یحیی بن زکریا بن ابی زائدہ اور دیگر محدثین اور ان سب نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا فیصلہ دیا ہے۔ عبدالرحمن بن محصدی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو ابواسحاق کی روایات فاتحہ کی طرح یاد ہوتی تھیں۔ ابوالحسن بن منصور نے ابوبکر محمد بن اسحاق کے حوالے سے ابوموسیٰ کا یہ قول نقل کیا ہے۔ عبدالرحمن بن مہدی بغیر ولی کے نکاح کے متعلق اسرائیل کی ابواسحاق سے روایت کردہ احادیث پر زیادہ اعتماد کیا کرتے تھے۔ حاتم بن یونس جرجانی فرماتے ہیں: میں نے ابوالولید الطیالسی سے کہا: بغیر ولی کے نکاح کے متعلق آپ کا کیا موقف ہے؟ انہوں نے کہا: جائز نہیں ہے۔ میں نے کہا: اس کی دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا: قیس بن ربیع کی ابواسحاق سے ذریعے ابوبردہ کے واسطے سے ان کے والد سے مروی حدیث۔ میں نے کہا: ثوری اور شعبہ تو ارسال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: اسرائیل نے قیس کی متابعت کی ہے۔ علی بن مدینی فرماتے ہیں لانکاح الابولی کے متعلق اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔ ابوبکر محمد بن اسحاق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے اس سلسلہ میں محمد بن یحیی سے پوچھا تو انہوں نے کہا: میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث صحیح ہے۔ میں نے کہا: اس کو شریک نے بھی روایت کیا ہے۔ انہوں نے پوچھا: آپ کو یہ حدیث کس نے بیان کی؟ میں نے کہا: علی بن حجر نے۔ اور میں نے ان سے یونس کی ابواسحاق سے روایت کردہ حدیث کا بھی ذکر کیا۔ اور ان سے کہا: اس کو شعبہ اور ثوری نے بھی ابواسحاق کے ذریعے ابوبردہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ اس نے کہا: جی ہاں ان دونوں نے ایسے ہی روایت کی ہے۔ لیکن وہ حدیث روایت کرتے ہوئے ارسال کرتے ہیں۔ اور جب ان سے پوچھا جائے کہ تم یہ حدیث کس کے حوالے سے بیان کرتے ہو تو وہ اس کی سند بیان کرتے۔ ابوالحسن احمد بن محمد العنزی، عثمان بن سعید دارمی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں: میں نے یحیی بن معین سے پوچھا: آپ یونس بن ابی اسحاق کو زیادہ اچھا سمجھتے ہیں یا ان کے بیٹے اسرائیل بن یونس کو؟ تو انہوں نے جواب دیا: دونوں ہی ثقہ ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2745 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19518)، والترمذي (1101) من طريق عبد الرحمن بن مهدي، وأحمد (19518) عن وكيع بن الجراح، وأحمد (19710) عن يزيد بن هارون، كلهم عن إسرائيل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (32/ 19518) اور ترمذی (1101) نے عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے، امام احمد نے وکیع بن الجراح سے اور یزید بن ہارون (19710) سے روایت کیا ہے؛ یہ سب اسرائیل بن یونس (عن ابو اسحاق) کی اسی اسناد کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
(1) حديث صحيح، وقيس بن الربيع يُعتبر به في المتابعات والشواهد، وقد تابعه إسرائيل وغيره كما تقدم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور قیس بن الربیع (الاسدی) متابعات و شواہد میں معتبر ہیں، جبکہ اسرائیل بن یونس وغیرہ نے ان کی متابعت (تائید) کر رکھی ہے۔
وأخرجه البزار (3113)، والطحاوي 3/ 9 من طريق محمد بن الصلت الكوفي، والطحاوي 3/ 9، والبيهقي 7/ 108 من طريق أبي الوليد الطيالسي، والطبراني في "الأوسط" (5565) من طريق أبي بلال الأشعري، والبيهقي 7/ 108، والخطيب في "الفصل للوصل" 2/ 756 من طريق شَبَابة بن سَوَّار، والخطيب أيضًا 2/ 756 من طريق طَلْق بن غنّام، كلهم عن قيس بن الربيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (3113) اور طحاوی (3/ 9) نے محمد بن الصلت الکوفی کے طریق سے؛ طحاوی اور بیہقی (7/ 108) نے ابوالولید الطیالسی کے طریق سے؛ طبرانی نے "الاوسط" (5565) میں ابو بلال الاشعری کے طریق سے؛ بیہقی اور خطیب نے "الفصل للوصل" (2/ 756) میں شبابہ بن سوار اور طلق بن غنام کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ سب قیس بن الربیع سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M1
سمعتُ أبا نصر أحمدَ بنَ سهل الفقيه ببُخارى يقول: سمعتُ صالح بن محمد بن حبيب الحافظ يقول: سمعتُ عليَّ بن عبد الله المَدِيني يقول: سمعت عبدَ الرحمن بن مَهدي يقول: كان إسرائيل يَحفَظُ حديث أبي إسحاق كما يَحفَظ ﴿الْحَمْدُ﴾.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M1]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M2
سمعتُ أبا الحسن بنَ منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: سمعتُ أبا موسى يقول: كان عبد الرحمن بنُ مهدي يُثبِت حديثَ إسرائيل عن أبي إسحاق - يعني - في النكاح بغير وليّ.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M2]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M3
حدثني محمد بن عبد الله الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن، حدثنا حاتم بن يونس الجُرْجاني، قال: قلت لأبي الوليد الطَّيالسي: ما تقول في النكاح بغير وليّ؟ فقال: لا يجوز، قلت: ما الحُجَّةُ في ذلك؟ فقال: حدثنا قيس بن الربيع، عن أبي إسحاق، عن أبي بردة، عن أبيه (1) . قلت: فإنَّ الثَّوْري وشعبة يُرسِلانه، قال: فإنَّ إسرائيلَ قد تابع قيسًا.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M3]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M4
حدثني محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمدُ بنُ المنذر بن سعيد، حدثنا إسحاقُ بن إبراهيم بن جَبَلة، سمعتُ علي بن المَديني يقول: حديثُ إسرائيل صحيح في"لا نكاحَ إلّا بوليّ".
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M4]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M5
سمعتُ أبا الحسن بن منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق الإمام يقول: سألتُ محمد بن يحيى عن هذا الباب، فقال: حديث إسرائيل صحيح عندي، فقلت له: رواه شَريك أيضًا؟ فقال: من رواه؟ فقلت: حدَّثَنا به علي بن حُجْر، وذكرتُ له حديث يونس بن أبي إسحاقَ وبعضَ من روى هذا الخبر عن أبي إسحاق، فقلت له: رواه شعبة والثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن النبي ﷺ: قال: نعم، هكذا رَوَياه، ولكنهم كانوا يُحدّثون بالحديث فيُرسِلونه، حتى يقال لهم: عمَّن؟ فيُسنِدونه.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M5]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M6
سمعتُ أبا الحسن أحمد بن محمد العَنَزي يقول: سمعت عثمان بن سعيد الدارمي يقول: قلت ليحيى بن مَعِين: يونس بن أبي إسحاق أحبُّ إليك أو ابنُه إسرائيل بن يونس؟ فقال: كلٌّ ثقة.
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2745M6]