المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
26. يا أيها الناس ، لا تغالوا مهر النساء
اے لوگو! عورتوں کے مہروں میں غلو نہ کرو
حدیث نمبر: 2760
فحدَّثَناه أبو الوليد الفقيه وأبو بكر بن عبد الله بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا شَيْبان بن فَرُّوخَ، حدثنا عيسى بن ميمون، حدثنا سالم ونافع، عن ابن عمر: أنَّ عمر بن الخطاب خطب الناسَ فقال: يا أيها الناسُ، لا تُغالُوا مَهْر النساء، فإنها لو كانت مَكرُمةً لم يكن منكم أحدٌ أحقَّ بها ولا أَولَى مِن النبي ﷺ، ما أمْهَرَ أحدًا من نسائه ولا أصْدَقَ أحدًا من بناته أكثرَ من اثنتي عشرة أُوقيّةً. والأوقيّة أربعُون درهمًا - إلّا شيءٌ أصدَقَ عنه النجاشيُّ؛ أربعَ مئة دينار بأرض الحبشة (2) . وأما حديث نافع:
سالم بن عبداللہ، نافع کے واسطے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے لوگو! عورتوں کے حق مہر بہت زیادہ مت مقرر کیا کرو، اس لیے کہ اگر یہ بات باعث عزت و تکریم ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی اس بات کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حقدار نہ ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بھی زوجہ اور بیٹی کا حق مہر 12 اوقیہ سے زیادہ نہیں رکھا اور اوقیہ کی قیمت چالیس درہم ہوتی ہے۔ تو یہ 480 درہم بنتے ہیں۔ اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حق مہر میں سب سے زیادہ ہے۔ ورنہ میری معلومات کے مطابق 400 سے زیادہ کسی کا حق مہر نہیں رکھا۔ ٭٭ ایک سند صحیح کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے بھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مروی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2760]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2760 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف عيسى بن ميمون - وهو المدني المعروف بالواسطي - كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقد تركه بعضهم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "ضعیف" ہے کیونکہ اس میں عیسیٰ بن میمون (المدنی المعروف بالواسطی) ہے جو کہ ضعیف راوی ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے "تلخیص" میں کہا، بلکہ بعض محدثین نے اسے ترک بھی کیا ہے۔
وأخرجه ابن عدي في "الكامل" 5/ 240 عن عبدان بن أحمد الأهوازي ومحمد بن عبدة بن حرب، عن شيبان بن فَرُّوخ، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عدی نے "الکامل" (5/ 240) میں عبدان بن احمد الاہوازی اور محمد بن عبدہ بن حرب عن شیبان بن فرُّوخ کی سند سے اسی اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ويُغني عنه ما قبله من رواية أبي العجفاء عن عمر.
📝 نوٹ / توضیح: اس روایت کی جگہ اس سے پہلے گزرنے والی ابو العجفاء عن عمر کی روایت ہی کافی ہے (جو اسی مفہوم میں ہے)۔
ويشهد لقصة النجاشي حديث أم حبيبة الآتي برقم (2776) بإسناد صحيح، وهي صاحبة القصة التي أمهرها النجاشي ذلك. غير أنه ذكر هناك أربعة آلاف - والمراد الدرهم - وهي تساوي أربع مئة دينار تقريبًا.
🧩 متابعات و شواہد: شاہِ حبشہ نجاشی کے قصے کی شہادت سیدہ ام حبيبہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث سے ملتی ہے جو آگے نمبر (2776) پر صحیح اسناد کے ساتھ آئے گی، اور وہ خود اس قصے کی مرکزی شخصیت ہیں جن کا مہر نجاشی نے ادا کیا تھا۔ 📝 نوٹ / توضیح: البتہ وہاں چار ہزار (درہم) کا ذکر ہے، جو کہ تقریباً چار سو دینار کے برابر بنتے ہیں۔