🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. أعظم الذنوب عند الله
اللہ کے نزدیک سب سے بڑے گناہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2778
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا أبو بكر محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث العَنْبري، حدثني أبي، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن محمد بن سِيرِين، عن ابن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إنَّ أعظمَ الذُّنوب عند الله رجلٌ تَزوّج امرأةً، فلما قضى حاجتَه منها طَلَّقها وذَهَب بمَهرِها (1) ، ورجلٌ استعملَ رجلًا فذهب بأُجرتِه، وآخَرُ يَقتُل دَابَّةً (2) عَبَثًا" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2743 - على شرط البخاري
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی کسی عورت سے نکاح کرے اور جب اس کی ضرورت پوری ہو جائے تو اس کو طلاق دے دے۔ اور اس کا حق مہر ہڑپ کر لے۔ اور ایسا آدمی جو کسی آدمی سے اجرت پر کام کروائے لیکن اس کی اجرت ہڑپ کر جائے۔ اور ایسا آدمی جو کسی جانور کو بلاوجہ مار ڈالے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2778]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2778 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص): دابته، والمثبت من (ب) و (ع)، وهو الموافق لرواية البيهقي عن الحاكم، وهو أنسب وأليق.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ص) میں "دابته" (اس کا جانور) کے الفاظ ہیں، جبکہ ہم نے متن نسخہ (ب) اور (ع) سے ثابت کیا ہے، اور یہی امام بیہقی کی "الحاکم" سے روایت کے موافق ہے، اور سیاق و سباق کے اعتبار سے یہی زیادہ مناسب اور لائق ہے۔
(3) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، فهو صدوق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سند کے حسن ہونے کی وجہ راوی "عبد الرحمن بن عبد اللہ بن دینار" ہیں، جو کہ "صدوق" (سچے مگر حافظے میں معمولی کمی والے) ہیں۔
وأخرجه البيهقي 7/ 241 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی (7/ 241) نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) وقع في (ز) و (ص) و (ع): مهرها. بإسقاط الباء، والمثبت من (ب) وهو الموافق لرواية البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 241 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الجادة.
📝 نوٹ / توضیح: مخطوطہ نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں لفظ "مهرها" (بغیر 'ب' کے) آیا ہے، جبکہ ہم نے جو متن قائم کیا ہے وہ نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے، اور یہی امام بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (7/ 241) کی روایت کے موافق ہے جو انہوں نے ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند (جادہ) کے ساتھ نقل کی ہے۔