🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
123. أهل الجنة عشرون ومائة صف هذه الأمة منها ثمانون صفا
اہلِ جنت کی صفیں ایک سو بیس ہوں گی، ان میں سے اسی صفیں میری امت کی ہوں گی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 278
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحارث بن حَصِيرة، عن القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه (3) ، عن عبد الله بن مسعود قال: قال لنا رسول الله ﷺ ونحن حولَه:"كيف أنتم رُبعَ أهل الجنة، لكم الربعُ ولسائر الأمم ثلاثةُ أرباعٍ" قال: قلنا: كثيرٌ يا رسول الله، قال:"كيف أنتم والثلثَ؟" قال: قلنا: ذلك أكثرُ، قال:"كيف أنتم والشَّطْرَ؟" قلنا: ذاك أكثرُ، قال:"أهلُ الجنة عشرون ومئةُ صفٍّ، أنتم منها ثمانون صفًّا" قال: قلنا: فذاكَ الثُّلثانِ يا رسول الله، قال:"أجَلْ" (1) . عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود لم يسمع من أبيه في أكثر الأقاويل (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 275 - لم يسمع عبد الرحمن من أبيه
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا جبکہ ہم آپ کے ارد گرد جمع تھے: کیا تم اس پر خوش نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ تمہارے لیے چوتھائی حصہ ہے اور باقی تمام امتوں کے لیے تین چوتھائی۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو بہت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ تم تہائی ہو؟ ہم نے عرض کیا: یہ اس سے بھی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ تم نصف ہو؟ ہم نے عرض کیا: یہ تو بہت ہی زیادہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی، تم ان میں سے اسی صفیں ہو گے۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ تو دو تہائی بنتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! (ایسا ہی ہے)۔
عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود نے اکثر اقوال کے مطابق اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 278]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه لِين، الحارث بن حصيرة ليس بذاك القوي» [ترقيم الرساله 278] [ترقيم الشركة 274/1] [ترقيم العلميه 275]

الحكم على الحديث: إسناده فيه لِين
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 278 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) من قوله: "عن جده" إلى هنا سقط من (ب) والمطبوع.
📝 نوٹ / توضیح: عبارت "عن جدہ" سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) اور مطبوعہ نسخے سے ساقط ہے۔
(1) إسناده فيه لِين، الحارث بن حصيرة ليس بذاك القوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند میں کچھ کمزوری (لین) ہے کیونکہ حارث بن حصیرہ زیادہ قوی راوی نہیں ہیں۔
وأخرجه أحمد 7/ (4328) عن عفان، عن عبد الواحد بن زياد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (ج 7، حدیث 4328) میں عفان عن عبدالواحد بن زیاد کی سند سے روایت کیا ہے۔
وخالف الحارثَ بنَ حصيرة أبو إسحاق السَّبيعي - وهو إمام حُجّة - فروى عن عمرو بن ميمون عن ابن مسعود نحوه إلّا أنه قال فيه مرفوعًا إلى النبي ﷺ: "إني لأرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة"، أخرجه البخاري (6528) ومسلم (221) وغيرهما.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حارث بن حصیرہ کی مخالفت (امام اور حجت) ابو اسحاق سبیعی نے کی ہے؛ انہوں نے عمرو بن میمون عن ابن مسعود کے طریق سے اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ہے لیکن اس میں "نصف اہل الجنہ" (اہلِ جنت کا آدھا حصہ) کے الفاظ کو نبی ﷺ کی طرف مرفوعاً منسوب کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری (6528) اور امام مسلم (221) وغیرہ نے روایت کیا ہے۔
والجمع بين هذا وبين حديث بريدة في الثلثين: أنه قال هذا في النصف عن رجاءٍ، ثم ظهر له ﷺ أنَّ الأمر فوق ما رَجَا فأخبر بما في حديث بريدة، والله أعلم. قاله السندي في حاشيته على "المسند".
📌 اہم نکتہ: اس روایت اور حضرت بریدہ کی "دو تہائی" (ثلثین) والی روایت میں تطبیق یہ ہے کہ نبی ﷺ نے پہلے نصف کی امید ظاہر فرمائی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بھی زیادہ (دو تہائی) کی خوشخبری دی تو آپ ﷺ نے اس کی خبر دے دی۔ 📖 حوالہ / مصدر: علامہ سندھی نے "مسند احمد" کے حاشیہ میں یہی بات بیان کی ہے۔
(2) قد ثبّت سماعَه منه عليُّ بن المديني وتلميذه البخاري، وروي عن ابن معين فيه قولان، وتوقّف فيه أحمد، والراجح أنه سمع منه شيئًا قليلًا، وبرأي ابن المديني والبخاري أخذنا ما لم يكن في حديثه نكارة، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس راوی کا (اپنے استاد سے) سماع علی بن مدینی اور ان کے شاگرد امام بخاری نے ثابت مانا ہے۔ ابن معین سے اس بارے میں دو قول مروی ہیں جبکہ امام احمد نے توقف کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: راجح بات یہ ہے کہ اس نے قلیل مقدار میں سماع کیا ہے، اور ہم نے ابن مدینی اور بخاری کی رائے کو ترجیح دی ہے بشرطیکہ حدیث میں کوئی "نکارت" موجود نہ ہو۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 278 in Urdu