المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. النساء أكثر أهل جهنم
عورتیں دوزخ میں زیادہ ہوں گی
حدیث نمبر: 2809
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی بندیوں کو مت مارو“، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: عورتیں اپنے شوہروں پر شیر ہو گئی ہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (تادیباً) مارنے کی اجازت دے دی، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کے گرد ستر عورتیں جمع ہو گئیں جو اپنے شوہروں کی شکایت کر رہی تھیں، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ (جو عورتوں کو مارتے ہیں) تم میں سے بہتر لوگ نہیں ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2809]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کی ایک شاہد روایت ام کلثوم بنت ابی بکر کی سند سے بھی صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2809]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (2800).» [ترقيم الرساله 2809] [ترقيم الشركة 2790] [ترقيم العلميه 2774]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2809 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظة "ليس" سقطت من (ز) و (ص) و (ب) ثم ألحقت بهامش (ص) بخط مغاير، وهي ثابتة في (ع)، والصواب إثباتها لفساد المعنى بدونها.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "لیس" نسخہ (ز)، (ص) اور (ب) سے ساقط ہو گیا تھا، پھر نسخہ (ص) کے حاشیے میں الگ لکھائی میں شامل کیا گیا۔ یہ نسخہ (ع) میں موجود ہے، اور درست یہی ہے کہ اسے شامل کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر معنی بگڑ جاتا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (2800).
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "صحیح" ہے، اور یہ نمبر (2800) پر گزر چکی ہے۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2809 in Urdu