🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. النساء أكثر أهل جهنم
عورتیں دوزخ میں زیادہ ہوں گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2809
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عمر، عن إياس بن عبد الله ابن أبي ذُباب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تضرِبُوا إماءَ الله" فجاء عمرُ إلى النبي ﷺ، فقال: يا رسول الله، قد ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ، فأَذِنَ رسولُ الله ﷺ أن يَضربوهنّ، قال: فأطافَ بآل محمد ﷺ سبعون امرأةً، كلُّهن يشتَكين أزواجَهنَّ، فقال رسول الله ﷺ:"ليس (1) أولئك خِيارَكم" (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أم كُلثوم بنت أبي بكر:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2774 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی باندیوں کو مت مارا کرو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوئے: یا رسول اللہ! عورتیں، مردوں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مارنے کی اجازت دے دی (ایاس) فرماتے ہیں: ستر عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ کے پاس آئیں اور سب کی زبان پر اپنے شوہروں کی شکایات تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تم سے زیادہ نیک نہیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2809]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2809 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) لفظة "ليس" سقطت من (ز) و (ص) و (ب) ثم ألحقت بهامش (ص) بخط مغاير، وهي ثابتة في (ع)، والصواب إثباتها لفساد المعنى بدونها.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "لیس" نسخہ (ز)، (ص) اور (ب) سے ساقط ہو گیا تھا، پھر نسخہ (ص) کے حاشیے میں الگ لکھائی میں شامل کیا گیا۔ یہ نسخہ (ع) میں موجود ہے، اور درست یہی ہے کہ اسے شامل کیا جائے کیونکہ اس کے بغیر معنی بگڑ جاتا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وقد تقدم برقم (2800).
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "صحیح" ہے، اور یہ نمبر (2800) پر گزر چکی ہے۔