المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. طلاق المرأة بأمر الأبوين
والدین کے کہنے پر عورت کو طلاق دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2834
أخبرنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد الأسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا ابن أبي ذِئْب، حدثني خالي الحارث بن عبد الرحمن، عن حمزة بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، قال: كانت تحتي امرأةٌ أُحبُّها، وكان عمر يكرهُها، فقال عمر: طلِّقْها، فأبَيتُ، فذَكَر ذلك للنبي ﷺ، فقال:"أطِعْ أباكَ وطلِّقْها"، فطلَّقتُها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والحارث بن عبد الرحمن هو: ابن أبي ذُباب المدني خالُ ابن أبي ذئب، قد احتجّا جميعًا به!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2798 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میرے نکاح میں ایک ایسی خاتون تھی جس کے ساتھ میں محبت کرتا تھا لیکن (میرے والد) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو وہ اچھی نہیں لگتی تھی۔ سیدنا عمر نے (مجھے) کہا: اس کو طلاق دے دو میں نے انکار کر دیا تو انہوں نے یہ بات نبی اکرم کو بتا دی تو آپ نے فرمایا: اپنے والد کی بات مانو اور اس کو طلاق دے دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا اور حارث بن عبدالرحمن ابوذباب المدنی کے بیٹے اور ابن ابی ذئب ہیں اور امام بخاری اور امام مسلم نے ان کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2834]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2834 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده جيد من أجل الحارث بن عبد الرحمن - وهو القرشي العامري - فهو صدوق لا بأس به، وليس هو بابن أبي ذُباب، كما جزم به المصنف بإثر الحديث، وبنَى عليه أن الشيخين قد احتجا به، على أنَّ ابن أبي ذُباب من رجال مسلم وحده، وإنما أخرج له البخاري في "الأدب المفرد". ابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ الحارث بن عبد الرحمن (القرشی العامری) کی وجہ سے ہے جو "صدوق" اور "لا بأس بہ" ہیں۔ یہ "ابن ابی ذباب" نہیں ہیں جیسا کہ مصنف (حاکم) نے حدیث کے بعد یقین سے کہا اور اس بنیاد پر یہ دعویٰ کیا کہ شیخین (بخاری و مسلم) نے ان سے احتجاج کیا ہے۔ حالانکہ ابن ابی ذباب صرف مسلم کے رجال میں سے ہیں، اور بخاری نے ان سے صرف "الادب المفرد" میں روایت لی ہے۔ (سند میں) ابن ابی ذئب سے مراد "محمد بن عبد الرحمن بن المغیرہ" ہیں۔
وأخرجه أحمد 8/ (4711)، وأبو داود (5138)، وابن ماجه (2088)، وابن حبان (426) من طريق يحيى بن سعيد القطان، وأحمد 9/ (5011) عن يزيد بن هارون، و 9/ (5144) عن أبي عامر عبد الملك بن عمرو العَقَدي، و 10/ (6470)، عن حماد بن خالد الخياط، وابن ماجه (2088) من طريق عثمان بن عمر، والنسائي (5631) من طريق خالد بن الحارث، وابن حبان (426) من طريق عمر بن علي المُقدَّمي، و (427) من طريق علي بن الجعد، ثمانيتهم عن ابن أبي ذئب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (8/ 4711)، ابو داود (5138)، ابن ماجہ (2088) اور ابن حبان (426) نے یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے؛ امام احمد (9/ 5011) نے یزید بن ہارون سے؛ احمد (9/ 5144) نے ابو عامر عبد الملک بن عمرو العقدی سے؛ احمد (10/ 6470) نے حماد بن خالد الخیاط سے؛ ابن ماجہ (2088) نے عثمان بن عمر کے طریق سے؛ نسائی (5631) نے خالد بن الحارث کے طریق سے؛ اور ابن حبان (426) نے عمر بن علی المقدمی کے طریق سے اور (427) میں علی بن الجعد کے طریق سے تخریج کیا ہے۔ یہ آٹھوں راوی اسے "ابن ابی ذئب" سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وسيأتي برقم (7440) من طريق عبد الله بن المبارك عن ابن أبي ذئب.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ روایت آگے نمبر (7440) پر عبد اللہ بن المبارک عن ابن ابی ذئب کے طریق سے آئے گی۔