🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. من أدب الإعتاق أن يبدأ بالرجل قبل امرأته
غلام آزاد کرنے کے آداب میں سے ہے کہ پہلے مرد کو آزاد کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2864
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى، حدثنا عيسى بن يونس، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أبي، حدثني رافع بن سِنان: أنه أسلمَ وأبَتِ امرأتُه أن تُسلِم، فأتتِ النبيَّ ﷺ، فقالت: ابنتي فَطِيمٌ، وقال رافع: ابنتي، فقال النبي ﷺ لِرافع:"اقعُدْ ناحِيةً" وقال لامرأته:"اقعُدي ناحيةً"، قال: وأقعَدَ الصَّبِيّةَ (3) بينهما، ثم قال:"ادعُواها" فمالَتْ الصَّبِيّة إلى أمها، فقال النبي ﷺ:"اللهم اهْدِها"، فمالَتْ إلى أبيها، فأخذها (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2828 - صحيح
رافع بن سنان فرماتے ہیں: وہ مسلمان ہو گئے لیکن ان کی بیوی نے اسلام لانے سے انکار کر دیا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بولی: میری بیٹی فطیم ہے اور رافع نے کہا: یہ میری بیٹی ہے۔ نبی اکرم نے رافع سے کہا: تم ایک طرف بیٹھ جاؤ اور اس کی بیوی سے کہا: تم دوسری طرف بیٹھ جاؤ اور اس بچی کو دونوں کے درمیان بٹھاؤ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم دونوں اس کو اپنی اپنی طرف بلاؤ (جب دونوں نے بلایا تو) وہ بچی ماں کی طرف مائل ہوئی، رسول اللہ نے دعا مانگی: یا اللہ! اس کو ہدایت دے (یہ دعا مانگتے ہی) بچی اپنے باپ کی طرف چل پڑی۔ چنانچہ اس کے باپ نے اس کو لے لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطلاق/حدیث: 2864]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2864 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ع) إلى: الصبي، وجاء على الصواب في (ب)، وفي رواية البيهقي ¤ ¤ في "سننه الكبرى" 8/ 3 عن أبي عبد الله الحاكم.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں لفظ تحریف ہو کر "الصبی" بن گیا ہے، جبکہ نسخہ (ب) اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (8/ 3) میں حاکم سے روایت میں درست آیا ہے۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، لكن قيل: إنَّ جعفرًا - وهو ابن عبد الله بن الحكم بن رافع - لم يسمع من جد أبيه رافع بن سنان، مع أنه صرَّح بسماعه منه هنا عند المصنف، لكن يُعكّر على ذلك أنَّ أبا داود روى هذا الحديث عن إبراهيم بن موسى، فلم يذكر التصريح بالسماع بل عنعنه، وعلى أي حال فجعفر هذا ثقة، وما رواه قصةٌ حصلت في أهل بيته، فهو أدرى بها، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور یہ سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کہا گیا ہے کہ جعفر (ابن عبد اللہ بن الحکم بن رافع) نے اپنے پردادا رافع بن سنان سے نہیں سنا، اگرچہ یہاں مصنف کے ہاں سماع کی تصریح موجود ہے۔ لیکن اس پر اشکال یہ ہے کہ ابو داود نے اسے ابراہیم بن موسیٰ سے روایت کیا تو سماع کی تصریح ذکر نہیں کی بلکہ "عن" سے روایت کیا۔ بہرحال جعفر ثقہ ہیں، اور جو انہوں نے روایت کیا وہ ان کے گھر کا قصہ ہے، لہذا وہ اسے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه أبو داود (2244) عن إبراهيم بن موسى، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (2244) نے ابراہیم بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 39/ (23757) عن علي بن بحر، عن عيسى بن يونس، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (39/ 23757) نے علی بن بحر سے، انہوں نے عیسیٰ بن یونس سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (6352) من طريق المعافَى بن عمران، عن عبد الحميد بن جعفر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6352) نے معافی بن عمران کے طریق سے، انہوں نے عبد الحمید بن جعفر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
ورواه عثمان البَتّي عن عبد الحميد، لكنه اختُلف عليه:
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے عثمان البتی نے عبد الحمید سے روایت کیا ہے، لیکن ان پر اختلاف ہوا ہے:
فأخرجه أحمد (23755)، وابن ماجه (2352)، والنسائي (6354) من طريق إسماعيل ابن عُلَيَّة، وأحمد (23759)، والنسائي (5659) و (6353) من طريق سفيان الثَّوري، كلاهما عن عثمان البَتّي، قال ابن عُلَيَّة: عن عبد الحميد بن سلمة، وقال الثَّوري: عن عبد الحميد الأنصاري، به. كذا سماه ابنُ عُلَيَّة في روايته.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ احمد (23755)، ابن ماجہ (2352)، اور نسائی (6354) نے اسماعیل بن علیہ کے طریق سے؛ اور احمد (23759) اور نسائی (5659، 6353) نے سفیان الثوری کے طریق سے، دونوں نے عثمان البتی سے روایت کیا۔ ابن علیہ نے کہا: "عبد الحمید بن سلمہ سے"، اور ثوری نے کہا: "عبد الحمید الانصاری سے"۔
وأخرجه أحمد (23756) عن هُشَيم بن بَشير، عن عثمان البَتّي، عن عبد الحميد بن سلمة: أنَّ جده أسلمَ، فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (23756) نے ہشیم بن بشیر سے، انہوں نے عثمان البتی سے، انہوں نے عبد الحمید بن سلمہ سے روایت کیا کہ: "ان کے دادا اسلام لائے..." (مرسلاً)۔
وأخرجه النسائي (6355) من طريق حماد بن سلمة، عن عثمان البَتّي، عن عبد الحميد بن سلمة، عن أبيه: أنَّ رجلًا أسلم، فذكره مرسلًا أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (6355) نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے عثمان البتی سے، انہوں نے عبد الحمید بن سلمہ سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ "ایک آدمی اسلام لایا..." (یہ بھی مرسل ہے)۔
كذا سمى عثمانُ البتي شيخه عبد الحميد بن سلمة، وهو خطأ، والصحيح أنه عبد الحميد بن جعفر، فقد روى الطحاوي في "شرح مشكل الآثار" بإثر الحديث (3093) وابن منده في "معجم الصحابة" 1/ 701 عن عبد الحميد بن جعفر، قال: أنا حدثتُ البَتِّي بحديث التخيير بالأهواز.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عثمان البتی نے اپنے شیخ کا نام "عبد الحمید بن سلمہ" لیا ہے، جو کہ غلطی ہے۔ صحیح یہ ہے کہ وہ "عبد الحمید بن جعفر" ہیں، چنانچہ طحاوی "شرح مشکل الآثار" (3093 کے بعد) اور ابن مندہ "معجم الصحابہ" (1/ 701) میں عبد الحمید بن جعفر سے روایت لائے ہیں، وہ کہتے ہیں: "میں نے البتی کو اہواز میں اختیار والی حدیث بیان کی تھی۔"