المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
3. شأن نزول سورة الأنفال
سورۂ انفال کے نزول کا سبب
حدیث نمبر: 2912
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد وأبو منصور محمد بن أحمد الفارسي، قالا: حدثنا أبو بكر محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا هُشَيم حدثنا داود بن أبي هند، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس: أنَّ رسول الله ﷺ قال يومَ بَدْر:"مَن قَتَلَ قتيلًا، فله كذا وكذا"، أما المَشْيخةُ فثَبَتُوا تحت الرايات، وأما الشُّبّانُ فتسارَعوا إلى القتل والغنائم، فقالت المَشْيخةُ للشُّبّان: أَشْرِكُونا معكم، فإنَّا كنا رِدْأً لكم، ولو كان فيكم شيءٌ لَجَأتُم إلينا، فأَبَوْا، فاختصَموا إلى رسول الله ﷺ، قال: فنزلت: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾، فقُسِمَت الغنائمُ بينهم بالسَّوِيَّة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2876 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2876 - صحيح
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ بدر کے موقع پر فرمایا: جو شحص کسی (کافر کو) قتل کرے گا، اس کے لیے اتنا اتنا مال ہو گا۔ اس دن عمر رسیدہ لوگ جھنڈے کے نیچے تھے جبکہ نوجوان لڑائی اور مالِ غنیمت (کے حصول) میں مصروف تھے۔ عمر رسیدہ لوگوں نے نوجوانوں سے کہا: تم لوگ ہمیں بھی اپنے ساتھ شریک کرو، کیونکہ تمہارے پناہ گاہ تو ہم ہی تھے، اگر تمہیں جنگ میں کوئی نقصان پہنچتا تو تم لوٹ کر ہمارے پاس آتے، لیکن ان نوجوانوں نے اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا، یہ لوگ اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لے گئے تب یہ آیات نازل ہوئیں ” یسالونک عن الانفال “ چنانچہ ان سب لوگوں میں برابر برابر مالِ غنیمت تقسیم کر دیا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2912]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2912 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ اسناد: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أبو داود (2738) عن زياد بن أيوب، عن هشيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / تخریج: اسے ابوداود (2738) نے زیاد بن ایوب عن ہشیم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد سلف برقم (2627)، وسيأتي برقم (3299).
📌 حوالہ: یہ روایت پہلے نمبر (2627) پر گزر چکی ہے اور آگے (3299) پر آئے گی۔