المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
8. مسامرة رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - عند أبى بكر أمور المسلمين
سیدنا رسول اللہ ﷺ کی سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاں مسلمانوں کے معاملات پر رات کی مجلس
حدیث نمبر: 2929
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم، عن عَلقَمة قال: جاء رجلٌ إلى عمر وهو بعَرَفةَ، فقال: يا أمير المؤمنين، جئتُ من الكوفة وتركتُ بها مَن يُمْلي المصاحفَ عن ظَهْر قلبه، قال: فغضب عمرُ وانتفَخَ حتى كاد يملأُ ما بين شُعبَتَي الرَّحْل، ثم قال: وَيحَك، من هو؟ قال: عبدُ الله بن مسعود، فما زال يُطفأُ ويُسرَّى الغضبُ، حتى عاد إلى حالِه التي كان عليها، ثم قال: وَيحَك، والله ما أَعلمُه بقيَ أحد من المسلمين هو أحقُّ بذلك منه، سأحدِّثُك عن ذلك: كان رسول الله ﷺ لا يزالُ يَسمُرُ في الأمر من أمر المسلمين عند أبي بكر، وإنه سَمَرَ عنده ذاتَ ليلةٍ وأنا معه، ثم خرج رسول الله ﷺ وخرجنا نمشي معه، فإذا رجلٌ قائمٌ يصلِّي في المسجد، فقام رسول الله ﷺ يستمعُ قراءتَه، فلمَّا أعْيانا أن نعرفَ مَن الرجل، قال رسول الله ﷺ:"مَن سَرَّه أن يقرأَ القرآن غضًّا كما أُنزِلَ، فليَقرَأْه على قراءَةِ ابنِ أمِّ عَبْدٍ"، ثم جلس الرجلُ يدعو، فجعل رسول الله ﷺ يقول له:"سَلْ تُعطَهْ". قال: فقال عمر: فقلت: والله لأَغدُوَنَّ إليه فَلأُبشِّرَنَّه، قال: فغَدَوتُ إليه لأبشِّرَه، فوجدتُ أبا بكر قد سَبَقَني فبَشَّره، والله ما سابقتُه إلى خيرٍ قطُّ إلَّا سَبَقَني إليه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2893 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2893 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ میدان عرفات میں تھے، اس نے کہا: اے امیرالمومنین رضی اللہ عنہ! میں کوفہ سے آیا ہوں اور وہاں پر ایک ایسا آدمی ہے جو زبانی قرآن کریم کی املاء کرواتا ہے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ اس بات پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بہت شدید ناراض اور غضبناک ہوئے اور پوچھنے لگے: وہ کون ہے؟ علقمہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (یہ نام سنتے ہی) ان کا غصہ کافور ہونے لگا حتیٰ کہ وہ بالکل نارمل حالت پر واپس آ گئے، پھر بولے: افسوس! خدا کی قسم! اس وقت مسلمانوں میں (قرآن کی املا کروانے کے حوالے سے) ان سے زیادہ بہتر کوئی شخص نہیں ہے۔ میں اس سلسلہ میں تمہیں ایک بات بتاتا ہوں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے معاملات میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ چنانچہ ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا، اس رات میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے اور ہم بھی آپ کے ہمراہ چل دیئے، ہم نے دیکھا کہ ایک آدمی مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قراءت سننے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ جب ہم اس شخص کو پہچاننے سے عاجز آ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کی تلاوت اس انداز میں پڑھنا چاہے، وہ ام معبد رضی اللہ عنہما کے بیٹے سے قرآن پڑھ لے۔ پھر وہ شخص بیٹھ کر دعا مانگنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق فرمانے لگے: (اے دعا مانگنے والے) تم جو مانگو گے تمہیں ملے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا کہ میں کل صبح سویرے اس آدمی کو آ کر یہ خوشخبری سناؤں گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں اگلے دن صبح سویرے اس کو خوشخبری سنانے گیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے پہلے اس کے پاس پہنچے ہوئے تھے اور ان کو خوشخبری سنا چکے تھے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: خدا کی قسم! میں نے جب بھی کسی نیکی میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے نکلنے کی کوشش کی ہے (میں اس میں کامیاب نہیں ہو سکا بلکہ) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی ہمیشہ جیتے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2929]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2929 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، رجاله ثقات عن آخرهم غير أحمد بن عبد الجبار العُطاردي فإنه يَقصُر عن رتبة الثقة وهو حسن الحديث. وهذا الحديث لم يسمعه علقمة - وهو ابن قيس النخعي - من عمر، إنما رواه عن القَرثَع الضبِّي عن قيس بن مروان الجعفي - وهو قيس بن أبي قيس - عن عمر، كما قال البيهقي في "السنن الكبرى" 1/ 453، والقريع وقيس ثقتان لا بأس بهما، وقيس هو الرجل الذي جاء إلى عمر، كما وقع مبيَّنًا في رواية البيهقي.
⚖️ درجۂ حدیث و اسناد: حدیث "صحیح" ہے، اس کے تمام رجال ثقہ ہیں سوائے احمد بن عبدالجبار العطاردی کے، جو ثقہ کے درجے سے کم ہیں اور "حسن الحدیث" ہیں۔ 🔍 انقطاع و واسطہ: یہ حدیث علقمہ (ابن قیس النخعی) نے حضرت عمر سے نہیں سنی، بلکہ انہوں نے اسے "قرثع الضبی" عن "قیس بن مروان الجعفی" (قیس بن ابی قیس) عن عمر روایت کیا ہے، جیسا کہ بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (1/ 453) میں فرمایا ہے۔ قرثع اور قیس دونوں ثقہ ہیں اور قیس ہی وہ شخص ہیں جو حضرت عمر کے پاس آئے تھے (جیسا کہ بیہقی کی روایت میں وضاحت ہے)۔
ورواية علقمة عن القرثع هذه أخرجها أحمد 1/ (265) عن عفان، عن عبد الواحد بن زياد، عن الحسن بن عبيد الله النخعي، عن إبراهيم - وهو ابن يزيد النخعي - عن علقمة، به. والإسناد إليه صحيح.
📖 حوالہ / تخریج: علقمہ کی قرثع سے یہ روایت امام احمد (1/ 265) نے عفان عن عبدالواحد بن زیاد عن الحسن بن عبیداللہ النخعی عن ابراہیم (النخعی) عن علقمہ کے واسطے سے نقل کی ہے۔ یہ سند ان تک "صحیح" ہے۔
وأما حديث أبي معاوية فقد أخرجه أحمد (175) عنه بمثل إسناد المصنف ولفظه. ثم قال: قال أبو معاوية: وحدثنا الأعمش، عن خيثمة - وهو ابن عبد الرحمن الجُعْفي - عن قيس بن مروان: أنه أتى عمر …
📖 حوالہ / تخریج: ابومعاویہ کی حدیث کو امام احمد (175) نے مصنف جیسی سند اور الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ پھر فرمایا: ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ (ابن عبدالرحمن الجعفی) عن قیس بن مروان سے بیان کیا کہ وہ عمر کے پاس آئے...
وأخرج منه قصة السَّمر عند أبي بكر مختصرًا أحمد (178) و (228)، والترمذي (169) من طريق أبي معاوية، به. وقال الترمذي: حديث حسن.
📖 حوالہ / تخریج: اس میں سے ابوبکر کے ہاں "رات گئے بات چیت" (سمر) کا قصہ مختصراً احمد (178، 228) اور ترمذی (169) نے ابومعاویہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث "حسن" ہے۔
وأخرج منه قوله: "من أحب أن يقرأ القرآن غضًّا … " أحمد (36)، والنسائي (8199) من طرق عن الأعمش، به. وهو عند النسائي من طريق أبي معاوية عنه، ومن طريق سفيان الثوري عنه، ومن طريق سفيان سيأتي في الحديث التالي عند المصنف.
📖 حوالہ / تخریج: اس میں سے یہ قول "جو شخص قرآن کو ویسا تازہ پڑھنا چاہے..." اسے احمد (36) اور نسائی (8199) نے اعمش کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ نسائی کے ہاں یہ ابومعاویہ اور سفیان ثوری کے واسطے سے ہے۔ اور سفیان کا طریق مصنف کے ہاں اگلی حدیث میں آئے گا۔
وأخرجه أيضًا النسائي (8198) من طريق محمد بن فضيل، عن الأعمش، عن خيثمة، عن قيس بن مروان، عن عمر.
📖 حوالہ / تخریج: اسے نسائی (8198) نے محمد بن فضیل عن الاعمش عن خیثمہ عن قیس بن مروان عن عمر کے واسطے سے بھی روایت کیا ہے۔
وللحديث طريق آخر عن عمر سيأتي تخريجه عند حديث علي الآتي عند المصنف برقم (5471).
📌 حوالہ: حضرت عمر سے اس حدیث کا ایک اور طریق ہے جس کی تخریج حضرت علی کی حدیث کے ذیل میں نمبر (5471) پر آئے گی۔