المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
7. إن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يأمركم أن يقرأ كل رجل منكم كما علم
سیدنا رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص اسی طرح پڑھے جس طرح اسے سکھایا گیا
حدیث نمبر: 2928
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا السَّرِي بن خُزَيمة، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا جعفر بن سليمان، حدثنا أبو عِمران الجَوْني، عن جُندُب قال: أتيتُ المدينة لأتعلَّمَ العلمَ، فلما دخلتُ مسجدَ رسول الله ﷺ إذا الناسُ فيه حَلَقٌ يتحدَّثون، قال: فجعلتُ أَمضي حتى انتهيتُ إلى حَلْقَةٍ فيها رجل شاحبٌ عليه ثوبانِ كأنما قَدِمَ من سفر، فسمعتُه يقول: هَلَكَ أصحابُ العَقْدِ وربِّ الكعبة، ولا آسَى عليهم - يقولها ثلاثًا - هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة، هَلَكَ أصحابُ العَقْد وربِّ الكعبة (1) ، قال: فجلستُ إليه فتحدَّث ما قُضِيَ له، ثم قام، فسألتُ عنه، فقالوا: هذا سيِّدُ الناس أُبيُّ بن كعب. قال: فتبعتُه إلى منزله، فإذا هو رَثُّ المنزل، رَثُّ الكِسْوة، رثُّ الهيئة، يُشبِهُ أمرُه بعضُه بعضًا، فسلَّمتُ عليه، فردَّ عليَّ السلامَ، قال: ثم سألني: ممَّن أنت؟ قال: قلت: من أهل العراق قال: أكثرُ شيءٍ سؤالًا، وغَضِبَ، قال: فاستقبلتُ القِبلةَ، ثم جَثَوتُ على ركبتيَّ ورفعتُ يديَّ هكذا - ومدَّ ذراعيه - فقلت: اللهمَّ إنا نَشكُوهم إليك، إنا نُنفِقُ نَفَقاتِنا ونُنصِبُ أبدانَنا، ونَرحَلُ مَطَايانا ابتغاءَ العلم، فإذا لَقِيناهم تَجهَّموا لنا، وقالوا لنا، قال: فبَكَى أُبيٌّ وجعل يترضَّاني، ويقول: وَيحَك، إني لم أَذهب هناك، ثم قال أُبيّ: أعاهدُك لَئِن أَبقَيتَني إلى يوم الجمعة لأتكلَّمَنَّ بما سمعتُ من رسول الله ﷺ، لا أخافُ فيه لومةَ لائم، قال: ثم انصرفتُ عنه وجعلت أنتظرُ يومَ الجمعة، فلما كان يومُ الخميس خرجتُ لبعض حاجتي، فإذا الطريقُ مملوءةٌ من الناس لا آخُذُ فِي سِكَّة إلّا استقبَلَني الناسُ، قال: فقلت: ما شأنُ الناس؟ قالوا: إنا نَحسَبُك غريبًا، قال: قلت: أجل، قالوا: مات سيدُ الناس أبيُّ بن كعب، قال: فلَقِيتُ أبا موسى بالعراق فحدَّثتُه، فقال: هلَّا كان يبقى حتى تَبلُغَنا مَقَالتُه (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2892 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2892 - على شرط مسلم
سیدنا جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں حصول علم کی خاطر آیا، جب میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو وہاں پر لوگ حلقوں کی صورت میں بیٹھے باہم گفتگو کر رہے تھے۔ میں ان میں سے گزرتا ہوا ایک حلقہ میں پہنچا، اس میں دو کپڑوں میں ملبوس ایک لاغر سا آدمی بیٹھا ہوا تھا، لگتا تھا کہ وہ ابھی ابھی کسی سفر سے آیا تھا، میں نے اس کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: رب کعبہ کی قسم ” اصحاب عقد “ ہلاک ہو گئے اور مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات تین بار کہی: رب کعبہ کی قسم! ” اصحابِ عقد “ ہلاک ہو گئے، رب کعبہ کی قسم! ” اصحاب عقد “ ہلاک ہوئے، رب کعبہ کی قسم! ” اصحاب عقد “ ہلاک ہو گئے۔ میں ان کے قریب بیٹھ گیا وہ اپنی آپ بیتی سنا رہے تھے پھر وہ اٹھ گئے۔ میں نے ان سے متعلق لوگوں سے دریافت کیا تو مجھے لوگوں نے بتایا کہ یہ لوگوں کے سردار سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے (جندب) کہتے ہیں: میں ان کے پیچھے چل دیا اور چلتا چلتا ان کے گھر تک پہنچ گیا (میں نے ان کے گھر کی حالت دیکھی) بہت خستہ حالت تھی، لباس بھی کوئی خاص نہ تھا اور ان کی اپنی بھی حالت پراگندہ تھی اور ان کا رہن سہن بالکل عام لوگوں جیسا تھا۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا اور پھر مجھ سے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ میں نے کہا: عراق سے۔ انہوں نے کہا: یہ لوگ بہت سوالات کرتے ہیں، اور پھر وہ ناراض ہو گئے، میں قبلہ رو ہوا اور اپنے گھٹنوں کے بل جھک گیا اور یوں اپنے ہاتھ بلند کیے (یہ کہتے ہوئے انہوں نے) اپنے دونوں بازو کھول دیئے، میں نے کہا: میں تو آپ کے پاس ان کی شکایت لے کر آیا ہوں، ہم نے حصول علم کی خاطر اپنے مال خرچ کیے، اپنے جسم پیش کیے اور اپنی سواریوں کو چلایا لیکن جب ہم ان سے ملے تو وہ ہم سے ترش روئی کے ساتھ پیش آئے اور ہم سے نامناسب گفتگو کی (جندب) کہتے ہیں: (میری یہ بات سن کر) سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رو پڑے اور مجھے راضی کرتے ہوئے بولے: افسوس! کہ میں ابھی وہاں تک نہیں جا سکا۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے: میرا تیرے ساتھ یہ وعدہ ہے کہ اگر اس جمعہ تک میری زندگی رہی تو میں تمہیں ایسی بات بتاؤں گا جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے اور اس سلسلے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا (جندب) کہتے ہیں: میں واپس آ گیا اور جمعہ کا انتظار کرنے لگا۔ جب جمعرات آئی تو میں اپنے ایک ضروری کام سے باہر نکلا تو تمام گلیوں بازاروں میں بہت رش تھا۔ میں جس گلی میں بھی گیا وہ لوگوں سے کھچا کھچ بھری ملی، میں نے پوچھا: لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ تو لوگوں نے جواب دیا: شاید آپ یہاں کے رہنے والے نہیں ہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ لوگوں نے بتایا: سیدالمسلمین سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں۔ (جندب) کہتے ہیں: پھر میں عراق میں ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا: کاش کہ وہ زندہ رہتے اور ان کی وہ بات ہم تک پہنچ جاتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 2928]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2928 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) يريد بأصحاب العقد: الأُمراء، وذلك لأنَّ الناس يعقدون لهم البيعةَ بالإمارة والولاية.
📝 لغوی تشریح: "اصحاب العقد" سے مراد "امراء/حکمران" ہیں، کیونکہ لوگ ان کے لیے امارت اور حکومت کی بیعت کا "عقد" (معاہدہ) باندھتے ہیں۔
(2) إسناده جيد. أبو عمران الجوني: هو عبد الملك بن حبيب.
⚖️ درجۂ اسناد: اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔ ابو عمران الجونی سے مراد "عبدالملک بن حبیب" ہیں۔
وسيأتي الحديث مختصرًا برقم (5411) من طريق أبي قلابة عبد الملك بن محمد بن عبد الله الرقاشي عن أبيه.
📌 حوالہ: یہ حدیث آگے مختصر طور پر نمبر (5411) پر ابو قلابہ عبدالملک بن محمد بن عبداللہ الرقاشی عن ابیہ کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه بطوله ابن سعد في "الطبقات" 3/ 465، وعبد الله بن أحمد في زياداته على "الزهد" ¤ ¤ لأبيه (1162)، وأبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" (3080)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 7/ 341 و 342 من طرق عن جعفر بن سليمان الضُّبَعي، به.
📖 حوالہ / تخریج: اسے طویل شکل میں ابن سعد (الطبقات 3/ 465)، عبداللہ بن احمد (زوائد الزہد 1162)، ابویعلیٰ (المطالب العالیہ 3080)، اور ابن عساکر (تاریخ دمشق 7/ 341، 342) نے جعفر بن سلیمان الضبعی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج هذه القصة باختصارٍ ابنُ سعد 3/ 464، ومن طريقه ابن عساكر 7/ 340 عن روح بن عبادة وهُوذة بن خليفة، عن عوف بن أبي جميلة، عن الحسن البصري قال: أخبرنا عُتَيُّ بن ضَمْرة قال: قلت لأُبي بن كعب: ما لكم أصحابَ رسول الله ﷺ نأتيكم من البُعْد … فذكر نحوها. فجعل القصة لعُتي بن ضمرة مع أُبي، وعُتيٌّ تابعي كبير، والسند إليه صحيح، أما جعفر بن سليمان فجعل القصة لجندب مع أُبي، وجندب الذي يروي عنه أبو عمران الجوني: هو جندب بن عبد الله البجلي، وهو من صغار الصحابة، والقلب إلى حديث الحسن البصري أميَل، فلعلَّ جعفرًا وهم في تسمية صاحب القصة مع أُبي، أو أن يكون كلاهما كان حاضرًا، والله تعالى أعلم.
🔍 تحقیق و تطبیق: ابن سعد (3/ 464) اور ابن عساکر (7/ 340) نے اسے مختصراً روح بن عبادہ اور ہوذہ بن خلیفہ عن عوف عن الحسن البصری عن عتی بن ضمرہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس میں یہ قصہ عتی بن ضمرہ کا حضرت ابی بن کعب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ عتی ایک کبار تابعی ہیں اور ان تک سند صحیح ہے۔ جبکہ جعفر بن سلیمان نے یہ قصہ "جندب" کا ابی کے ساتھ بتایا ہے (جندب بن عبداللہ بجلی، صغار صحابہ میں سے)۔ میرا رجحان حسن بصری والی روایت کی طرف زیادہ ہے، شاید جعفر کو نام میں وہم ہوا، یا ہو سکتا ہے دونوں حضرات وہاں موجود ہوں۔ واللہ اعلم۔
وانظر ما سلف برقم (873).
📌 حوالہ: سابقہ نمبر (873) دیکھیں۔