🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. مكث النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بمكة ثلاث عشرة سنين نبيا
سیدنا رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3002
أخبرني أبو بكر بن أبي دارم الحافظ بالكوفة، حدثنا عُبيد بن غَنَّام بن حفص بن غِيَاث، حدثنا عُبيد بن يَعِيش، حدثنا محمد بن فُضيل، عن عاصم، عن زِرٍّ قال: قرأَ رجلٌ على عبد الله (طه) مفتوحةً، فأخذها عليه عبد الله (طِهِ) مكسورةً، فقال له الرجل: إنما يعني: ضَعْ رِجلَك، مفتوحةً، فقال عبد الله: هكذا قرأَها رسول الله ﷺ وهكذا أنزلها جبريلُ ﵇ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورواه محمد بن عبيد الله بن عاصم بإسناده، وقال فيه: فقال عبد الله: والله لَهكذا علَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2965 - صحيح
سیدنا زر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک شخص نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے طہ کو مفتوح پڑھا۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے طہ مسکورہ پڑھا۔ تو آپ کو اس شخص نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ (اے محبوب) اپنے قدم مبارک کو زمین پر رکھا کریں۔ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی پڑھا ہے اور ایسے ہی سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے اُتارا ہے۔ (نوٹ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قدم پر نماز پڑھا کرتے تھے، اس طرح لمبے قیام کی وجہ سے آپ کے قدم شریف سوج گئے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے محبوب اپنے دونوں قدم بیک وقت زمین کے ساتھ لگا کر رکھا کریں۔ شفیق) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو محمد بن عبداللہ بن عاصم نے اپنی سند کے ہمراہ روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے کہا ہے: تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی سکھایا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3002]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3002 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث حسن إن شاء الله، أبو بكر بن أبي دارم شيخ المصنف متكلمٌ فيه إلّا أنه لم ينفرد به. عاصم هو ابن أبي النجود، وزر: هو ابن حبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ان شاء اللہ "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کے شیخ "ابو بکر بن ابی دارم" میں کلام ہے، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں۔ عاصم سے مراد "ابن ابی النجود" اور زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
وأخرجه تمّام الرازي في "فوائده" (1692) من طريق قيس بن الربيع، عن عاصم، عن زر، عن ابن مسعود: أنَّ النبي ﷺ قرأ (طِهِ) بكسر الطاء والهاء. وقيس بن الربيع - وإن كان فيه ضعف - يُعتبَر به في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے تمام الرازی نے "الفوائد" (1692) میں قیس بن ربیع، عن عاصم، عن زر، عن ابن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہے کہ: نبی ﷺ نے (طِهِ) کو طاء اور ہاء کے کسرہ (زیر) کے ساتھ پڑھا۔ 🧩 متابعات و شواہد: قیس بن ربیع میں اگرچہ ضعف ہے، لیکن متابعات اور شواہد میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
وهذه القراءة المرويَّة عن ابن مسعود قرأ بها من السبعة حمزة والكسائي وعاصم في رواية أبي بكر عنه كما في كتاب "السبعة" لابن مجاهد ص 416، بالإمالة فيهما.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: یہ قراءت جو ابن مسعود سے مروی ہے، اسے قراء سبعہ میں سے حمزہ، کسائی، اور عاصم (بروایت ابی بکر) نے پڑھا ہے (جیسا کہ ابن مجاہد کی "السبعۃ" ص 416 میں ہے)، اور ان سب نے دونوں جگہ (طِهِ) "امالہ" کے ساتھ پڑھا ہے۔
(1) محمد بن عبيد الله هذا: هو العَرْزَمي فيما يغلب على ظننا، واسمه محمد بن عبيد الله بن أبي سليمان الكوفي، وهو متروك. وأخرج الحديث من طريقه أبو علي الصواف في "فوائده" (22).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں "محمد بن عبید اللہ" سے مراد غالباً "العرزمین" ہیں (جہاں تک ہمارا گمان غالب ہے)، ان کا پورا نام "محمد بن عبید اللہ بن ابی سلیمان الکوفی" ہے، اور یہ "متروک" راوی ہیں۔ اس حدیث کو ان کے طریق سے ابو علی الصواف نے "الفوائد" (22) میں تخریج کیا ہے۔