المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
19. مكث النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - بمكة ثلاث عشرة سنين نبيا
سیدنا رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک نبی کی حیثیت سے مقیم رہے
حدیث نمبر: 3003
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن محمود بن لَبِيد، عن أبي سعيد قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تُفتَح يأجوجُ ومأجوجُ كما قال الله ﷿: ﴿مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ﴾ [الأنبياء: 96) ] (2) . قال ابن إسحاق: وفي قراءة عبد الله: (من كلِّ جَدَثٍ يَنسِلُون) بالجيم والثاء، مثل قوله: (مِنَ الْأَجْدَاثِ إِلَى رَبِّهِمْ يَنسِلُونَ) [يس: 51] وهي القُبور.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2966 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2966 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یاجوج اور ماجوج کو کھول دیا جائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے: (مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَنْسِلُوْنَ) (الانبیاء: 96) ابن اسحاق کہتے ہیں: عبداللہ کی قراءت میں (مِنْ کُلِّ جَدَثٍ یَنْسِلُوْنَ) جیم اور ثاء کے ساتھ ہے جیسا کہ (مِنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْنَ) (یٰس: 51) اور یہ (اجداث) قبروں کو کہتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3003]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3003 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالتحديث فيما سيأتي برقم (8714) مطوَّلًا لكن دون ذكر القراءة. وانظر تخريجه هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: انہوں نے آگے نمبر (8714) پر آنے والی طویل روایت میں سماع کی تصریح (تحدیث) کی ہے، لیکن وہاں قراءت کا ذکر نہیں ہے۔ اس کی تخریج وہیں دیکھیں۔
والقراءة التي أشار إليها ابن إسحاق من القراءات الشاذَّة، وذكرها ابن جِنِّي في "المحتسب" 2/ 66.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: وہ قراءت جس کی طرف ابن اسحاق نے اشارہ کیا ہے، "شاذ" قراءات میں سے ہے، اور اسے ابن جنی نے "المحتسب" 2/ 66 میں ذکر کیا ہے۔