🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. أَوَّلُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْقِتَالِ
قتال کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3010
وحدثنا أبو بكر بن داود (2) ، حدثنا علي بن الحسين بن جُنَيد، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا الوليد بن جُندُب، حدثنا بكر بن خُنَيس، عن محمد بن سعيد، عن عُبَادة بن نُسَي، عن عبد الرحمن بن غَنْم قال: سألتُ معاذَ بن جبل عن قول الله ﷿: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ أو (غَلَبَت) ؟ فقال: أقرأَني رسول الله ﷺ: ﴿الم (1) غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ (3) . لم نكتب الحديثين إلّا بهذا الإسناد، إلَّا أنَّ محمد بن سعيد الشامي ليس من شرط الكتاب.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2973 - محمد بن سعيد هو المصلوب هالك وبكر بن خنيس متروك
عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے ارشاد ﴿غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ «غُلِبَت» ہے یا «غَلَبَت» ؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ﴿الم غُلِبَتِ الرُّومُ﴾ رومی مغلوب ہو گئے۔ ہی پڑھایا ہے۔ [سورة الروم: 1 - 2]
ہم نے یہ دونوں حدیثیں صرف اسی سند سے لکھی ہیں، مگر محمد بن سعید شامی اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3010]
تخریج الحدیث: «إسناده تالف كسابقه،» [ترقيم الرساله 3010] [ترقيم الشركة 2991] [ترقيم العلميه 2973]

الحكم على الحديث: إسناده تالف كسابقه

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3010 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ز) و (ص) و (ع): أبو بكر بن أبي داود، بزيادة لفظ "أبي"، وهو خطأ، والمثبت من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "ابو بکر بن ابی داود" ہے جس میں لفظ "ابی" کا اضافہ غلطی ہے، درست متن نسخہ (ب) سے لیا گیا ہے۔
(3) إسناده تالف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی روایت کی طرح "تالف" (انتہائی ضعیف) ہے۔
والجمهور على قراءة (غُلِبَت) مبنيًا للمفعول، وقراءة (غَلَبَت) للفاعل شاذَّة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: جمہور کی قراءت (غُلِبَت) مجہول کے صیغے کے ساتھ ہے، جبکہ (غَلَبَت) معروف کے صیغے کے ساتھ پڑھنا "شاذ" ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3010 in Urdu