المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. أول آية نزلت فى القتال
قتال کے بارے میں نازل ہونے والی پہلی آیت
حدیث نمبر: 3011
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن فُضَيل بن مرزوق، عن عطيّة العَوْفي قال: قرأتُ على ابن عمر: ﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً﴾ [الروم: 54] ، فقال ابن عمر: (اللهُ الذي خَلَقَكم من ضُعْفٍ ثم جَعَلَ من بعدِ ضُعْفٍ قوةً ثم جَعَلَ من بعدِ قوةٍ ضُعْفًا وشَيْبةً) ، ثم قال ابن عمر قرأتُ على رسول الله كما قرأتَ علىَّ، فأخَذَ علىَّ كما أخذتُ عليك (1) . تفرَّد به عطيّةُ العَوْفي ولم يَحتجَّا به، وقد احتَجَّ مسلم بالفُضَيل بن مرزوق.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2974 - لم يحتجا بعطية
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2974 - لم يحتجا بعطية
سیدنا عطیہ عوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے (یہ آیت) (اَللہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً) (الروم: 54) پڑھی تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آیت کو یوں پڑھا: (اَللہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّ شَیْبَۃً) پھر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے ہی تلاوت کی تھی جیسے تو نے میرے سامنے کی ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری ایسے ہی غلطی درست کی جیسے میں نے تیری کی۔ ٭٭ عطیہ عوفی رضی اللہ عنہ یہ حدیث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں البتہ امام مسلم نے فضیل بن مرزوق کی روایات نقل کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3011]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3011 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لضعف عطية بن سعد العَوْفي. أبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف عطیہ بن سعد العوفی کی وجہ سے ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہاں ابو حذیفہ سے مراد "موسیٰ بن مسعود النہدی" ہیں، اور سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه أحمد 9/ (5227)، وأبو داود (3978)، والترمذي (2936) من طرق عن فضيل بن مرزوق، بهذا الإسناد. وحسَّنه الترمذي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 9/ (5227)، ابو داود (3978)، اور ترمذی (2936) نے فضیل بن مرزوق سے مختلف طرق کے ذریعے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ترمذی نے اسے "حسن" کہا ہے۔
وقراءة (ضُعْف) بضم الضاد في المواضع الثلاثة في قراءة السبعة غير عاصم وحمزة فقرآ: (ضَعْف) بفتحها فيهنَّ. انظر "السبعة" لابن مجاهد ص 508.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (ضُعْف) تینوں مقامات پر ضاد کے ضمہ کے ساتھ قراءت سبعہ میں سے عاصم اور حمزہ کے علاوہ باقی سب کی ہے، ان دونوں نے تینوں جگہ (ضَعْف) فتحہ (زبر) کے ساتھ پڑھا ہے۔ ملاحظہ ہو "السبعۃ" ص 508۔