🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. زيارة قبور الشهداء ورد السلام منهم إلى يوم القيامة
شہداء کی قبور کی زیارت اور قیامت تک ان کی طرف سے سلام کا جواب دیا جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3021
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا محمد بن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبيه، عن زاذانَ، عن علي: أنَّ النبي ﷺ قرأ: ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ﴾ [الطور: 21] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2984 - صحيح
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سورۂ طور کی آیت نمبر 21 یوں) پڑھی: (الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَ اتَّبَعَتْھُمْ ذُرِّیَّتُھُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِھِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ) (الطور: 21) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3021]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3021 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف، وسَوقه هنا من رواية محمد بن فضيل بن غزوان عن أبيه وهمٌ من يحيى بن محمد أو ممَّن دونه، فقد خالف عبدُ الله بن أحمد في زياداته على "مسند" أبيه 2/ (1131)، وأبو بكر بن أبي عاصم في "السنة" (213 م)، فروياه ضمن حديثٍ عن عثمان بن أبي شيبة، عن محمد بن فضيل، عن محمد بن عثمان - وعند ابن أبي عاصم: عن محمد مهملًا - عن زاذان، به. ومحمد بن عثمان هذا مجهول.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے یہاں "محمد بن فضیل بن غزوان عن ابیہ" کی روایت سے لانا یحییٰ بن محمد یا ان سے نیچے کسی راوی کا "وہم" ہے۔ کیونکہ عبد اللہ بن احمد نے "المسند" پر زیادات 2/ (1131) میں، اور ابو بکر بن ابی عاصم نے "السنۃ" (213 م) میں اس کی مخالفت کی ہے؛ انہوں نے اسے عثمان بن ابی شیبہ، عن محمد بن فضیل، عن محمد بن عثمان (اور ابن ابی عاصم کے ہاں صرف محمد ہے) عن زاذان کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ اور یہ محمد بن عثمان "مجہول" ہے۔