المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. من سورة البقرة
سورۂ بقرہ سے
حدیث نمبر: 3066
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم ابن الحسين، حدثنا الفضل بن دُكَين، حدثنا آدم بن أبي إياس، أخبرنا شُعبة، عن سَلَمة بن كُهيل، عن أبي الأحوص، عن عبد الله قال: اقرؤوا سورة البقرة في بيوتِكم، فإنَّ الشيطان لا يَدخُلُ بيتًا تُقرأُ فيه سورةُ البقرة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3029 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3029 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اپنے گھروں میں سورۃ البقرہ کی تلاوت کیا کرو کیونکہ جس گھر میں اس سورۃ کی تلاوت ہوتی ہے اس میں شیاطین (جنات وغیرہ) داخل نہیں ہو سکتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3066]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3066 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف من أجل عبد الرحمن بن الحسن القاضي، وهو متابع، ومن فوقه ثقات. أبو الأحوص: هو عوف بن مالك الجُشَمي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث ’صحیح لغیرہ‘ ہے، اور اس سند میں عبدالرحمن بن الحسن القاضی کی وجہ سے ضعف ہے، لیکن ان کی متابعت کی گئی ہے، اور ان سے اوپر والے راوی ثقہ ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الاحوص سے مراد ’عوف بن مالک الجشمی‘ ہیں۔
وقد سلف برقم (2086) من طريق الفضل بن دكين عن شعبة، فروايته هنا عن آدم بن أبي إياس عن شعبة من المَزِيد في متصل الأسانيد. وانظر تمام تخريجه هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: اور یہ نمبر (2086) پر فضل بن دکین عن شعبہ کے طریق سے گزر چکا ہے، چنانچہ یہاں اس کا آدم بن ابی ایاس عن شعبہ سے مروی ہونا ’مزید فی متصل الاسانید‘ کے قبیل سے ہے۔ اس کی مکمل تخریج وہاں دیکھیں۔