المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3078
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبَّاس قال: كيف تَسألون عن شيء وعندكم كتابُ الله! أحدثُ الأخبار بالله، وقد أخبَرَكم (1) أنهم كَتَبوا كتابًا بأيديهم وبدَّلوا وحرَّفوا وقالوا: هذا من عند الله، واشتَرَوْا به ثمنًا قليلًا، فعندكم كتابُ الله مَحْضٌ لم يُشَبْ، فوالله لا يَسألُكم أحدٌ منهم عن الذي أُنزِلَ عليكم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3041 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3041 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: تم کسی چیز کے متعلق کس بناء پر سوال کرتے ہو حالانکہ تمہارے پاس اللہ کی کتاب موجود ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی تازہ خبریں ہیں اور اس نے تمہیں یہ بھی بتایا ہے کہ یہودیوں نے خود اپنے ہاتھ سے کتابیں لکھی ہیں اور ان میں تغیر و تبدل کر رکھا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ من جانب اللہ ہے اور اس کے بدلے وہ تھوڑی سی قیمت لیتے ہیں اور تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی خالص کتاب ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خیانت نہیں ہے۔ خدا کی قسم ان میں سے کوئی شخص تم سے اس چیز کے بارے میں سوال نہیں کرے گا جو تم پر نازل ہوئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3078]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3078 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ص) و (ع): أخبرهم، والمثبت من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں "أخبرهم" ہے، اور جو ہم نے (متن میں) برقرار رکھا ہے وہ نسخہ (ب) سے ہے۔
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن إبراهيم الحنظلي المعروف بابن راهويه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق سے مراد ’ابن ابراہیم الحنظلی‘ ہیں جو ابن راہویہ کے نام سے معروف ہیں۔
وأخرجه البخاري "2685) و (7363) و (7523) من طرق عن ابن شهاب الزهري، بهذا الإسناد. فاستدراك المصنف له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (2685)، (7363) اور (7523) میں ابن شہاب زہری کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے؛ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ مصنف کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔
وأخرجه مختصرًا البخاري أيضًا (7522) من طريق أيوب، عن عكرمة، عن ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے ہی (7522) میں ایوب کے طریق سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے مختصراً تخریج کیا ہے۔
قوله: "مَحْضٌ لم يُشَب" أي: خالص لم يُخلَط بشيء من كلام البشر وتحريفاتهم.
📝 نوٹ / توضیح: قول: "مَحْضٌ لم يُشَب" کا مطلب ہے: بالکل خالص، جس میں انسانی کلام اور تحریفات کی کوئی ملاوٹ نہ کی گئی ہو۔