المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
حدیث نمبر: 3079
أخبرني الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، حدثنا يوسف ابن موسى، حدثنا عبد الملك بن هارون بن عَنتَرة، عن أبيه، عن جدِّه، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عبَّاس قال: كانت يهودُ خيبرَ تقاتل غَطَفَانَ، فكلَّما التَقَوْا هُزِمَت يهودُ خيبر، فعادتِ اليهودُ بهذا الدعاء فقالت: اللهمَّ إنا نسألك بحق محمدٍ النبيَّ الأُمّيِّ الذي وعدتَنا أن تخرجَه لنا في آخر الزمان إلَّا نصرتَنا عليهم، قال: فكانوا إذا التقَوْا دَعَوْا بهذا الدعاء، فهَزَموا غطفانَ، فلما بُعِثَ النبيُّ ﷺ كَفَروا به، فأنزل الله وقد كانوا يَستفتِحُون بك يا محمدُ على الكافرينَ (3) . (1) أدَّت الضَّرورةُ إلى إخراجه في التفسير، وهو غريبٌ من حديثه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3042 - لا ضرورة في ذلك أي لإخراجه فعبد الله متروك هالك
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خیبر کے یہودیوں کی قبیلہ غطفان کے ساتھ اکثر جنگ رہتی تھی، لیکن جب بھی خیبر کے یہودی غطفان سے لڑتے تو شکست سے دوچار ہوتے۔ پھر یہودیوں نے اس دعا کے ذریعے پناہ مانگنا شروع کی ” اے اللہ! ہم تجھ سے اس اُمی نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے پناہ مانگتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث کرنے کا تو نے ہم سے وعدہ کر رکھا ہے۔ یااللہ! تو ان کے خلاف ہماری مدد فرما “ تو جب بھی وہ جنگ کرتے یہی دعا مانگتے (اور اسی دعا کی برکت سے) ” غطفان “ کو شکست ہوئی لیکن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو انہی لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:” وَکَانُوْا یَسْتَفْتِحُوْنَ (بِکَ یَا مُحَمَّدُ) عَلٰی الذِیْنَ کَفَرُوا (الْکَافِرِیْن): (البقرۃ: 89) ” اور اس سے پہلے اسی نبی کے وسیلے سے کافروں پر فتح مانگتے تھے “۔ ٭٭ تفسیر میں اس حدیث کو درج کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ تاہم یہ حدیث غریب ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3079]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3079 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذا وقع في أصولنا من "المستدرك"، وقد أخرج هذا الخبر البيهقيُّ في "دلائل النبوة" 2/ 76 - 77 عن المصنف بإسناده ومتنه، وفيه فأنزل الله: ﴿وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ﴾ يعني: بك يا محمد ﴿عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا﴾ إلى قوله: ﴿فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾ [البقرة: 89].
📝 نوٹ / توضیح: "المستدرک" کے ہمارے اصل نسخوں میں ایسا ہی واقع ہوا ہے، اور اس خبر کو بیہقی نے "دلائل النبوة" 2/ 76 - 77 میں مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ نکالا ہے، اور اس میں ہے: "پس اللہ نے نازل فرمایا: ﴿وَكَانُوا مِنْ قَبْلُ يَسْتَفْتِحُونَ﴾ (یعنی: اے محمد آپ کے ذریعے فتح مانگتے تھے) ﴿عَلَى الَّذِينَ كَفَرُوا﴾، اس قول تک: ﴿فَلَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَافِرِينَ﴾" [البقرہ: 89]۔
وإسناد الخبر تالف، فيه عبد الملك بن هارون بن عنترة، وهو متروك هالك كما قال الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس خبر کی سند ’تالف‘ (برباد/انتہائی ضعیف) ہے، اس میں عبدالملک بن ہارون بن عنترہ ہے، اور وہ ’متروک و ہالک‘ ہے جیسا کہ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں کہا ہے۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (978) عن إبراهيم بن موسى الجوزي، عن يوسف بن موسى، بهذا الإسناد. وأسقط منه سعيد بن جبير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشريعة" (978) میں ابراہیم بن موسیٰ الجوزی سے، انہوں نے یوسف بن موسیٰ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے، اور اس میں سے سعید بن جبیر کو ساقط کر دیا ہے۔
(1) هنا بياض في الأصول.
📝 نوٹ / توضیح: اصل نسخوں میں یہاں بیاض (خالی جگہ) ہے۔