🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3082
أخبرَناه أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا محمد ابن سهل بن عَسكَر، حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيَاةٍ﴾ قال: هم هؤلاء أهلُ الكتاب ﴿وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمُزَحْزِحِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ﴾ (البقرة: 96] قال: هو قولُ أحدهم لصاحبه هَزارْ سالْ نَيرُوز مِهرجان بخور (1) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ لَتَجِدَنَّھُمْ اَحْرَصَ النَّاسِ عَلٰی حَیٰوۃٍ (البقرۃ: 96) اور بیشک تم ضرور انہیں پاؤ گے کہ سب لوگوں سے زیادہ جینے کی ہوس رکھتے ہیں ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: (ان سے مراد یہ ہے کہ) تمام اہل کتاب اور مشرکین یہ آرزو رکھتے ہیں کہ کسی طور ان کو ہزار سال تک کی عمر دے دی جائے حالانکہ ہزار سال عمر کا دیا جانا بھی ان کو عذاب سے نہیں بچا سکے گا اور ان میں سے ایک آدمی دوسرے کو یہی دعائیں دیا کرتا تھا کہ تم ہزار سال مھرجان (پارسیوں کی عید کا نام ہے) کے مزے لوٹو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3082]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3082 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن بما قبله، قيس بن الربيع يعتبر به في المتابعات والشواهد، وباقي رجاله ثقات.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ماقبل (شواہد) کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: قیس بن ربیع کا اعتبار متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے، اور باقی تمام رجال ثقہ ہیں۔
وأخرجه بنحوه الطبري في "تفسيره" 1/ 429 من طريق الأعمش، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس. وفيه نوروز مهرجان.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی مثل طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 429 میں اعمش کے طریق سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے تخریج کیا ہے، اور اس میں ’نوروز مہرجان‘ (کا ذکر) ہے۔
وبخور: كذا جاء في نسخنا الخطية، ويغلب على ظننا أنَّ الصواب: بَختْوَر، ومعناه كما في "المعجم الذهبي" ص 102: السعيد المحظوظ.
📝 نوٹ / توضیح: (متن میں لفظ) "بخور": ہمارے قلمی نسخوں میں ایسا ہی آیا ہے، اور ہمارا غالب گمان ہے کہ درست لفظ "بَختْوَر" ہے، اور اس کا معنی "المعجم الذهبي" ص 102 کے مطابق ہے: خوش قسمت، خوش نصیب (السعيد المحظوظ)۔