🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. كانت الرسل ثلاثمائة وخمس عشرة
انبیاء کی تعداد تین سو پندرہ تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3081
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن سعيد ابن جُبَير، عن ابن عباس: ﴿يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ﴾ [البقرة: 96] قال: هو قول الأعاجم إذا عَطَسَ أَحدُهم: زِهِ هَزارْ سالْ (4) . رواه قيس بن الرّبيع، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبَّاس، بزيادة ألفاظٍ:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: یَوَدُّ اَحَدُھُمْ لَوْ یُعَمَّرُ اَلْفَ سَنَۃٍ (البقرۃ: 96) ایک کو تمنا ہے کہ کہیں ہزار برس جیے ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: یہ عجمیوں کا قول ہو گا جبکہ ان میں سے کسی کو چھینک آتی (تو وہ یہی دعا مانگتا کہ کاش اس کی عمر دس ہزار سال ہو جائے)۔ (نوٹ: مشرکین کا ایک گروہ مجوسی ہے آپس میں تحیت و سلام کے موقع پر کہتے ہیں زہ ہزار سال یعنی ہزار برس جیو۔ مطلب یہ ہے کہ مجوسی مشرک ہزار برس جینے کی تمنا رکھتے ہیں، یہودی ان سے بھی بڑھ گئے کہ انہیں حرص و زندگانی سب سے زیادہ ہے۔ (تفسیر خزائن العرفان) ٭٭ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک دوسری سند کے ہمراہ چند الفاظ کے اضافہ کے ساتھ بھی یہ حدیث مروی ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3081]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3081 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) إسناده صحيح أبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو معاویہ سے مراد ’محمد بن خازم الضریر‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 1/ 430 من طريق أبي معاوية، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسيره" 1/ 430 میں ابو معاویہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 10/ 473، وابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 179 من طريق عبد الله بن نمير، عن الأعمش، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، به. وذكر مسلم فيه من المَزيد في متصل الأسانيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ نے 10/ 473، اور ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 179 میں عبداللہ بن نمیر کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے، انہوں نے مسلم البطین سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور اس میں مسلم (البطین) کا ذکر ’مزید فی متصل الاسانید‘ کے قبیل سے ہے۔
ومعنى "زه هزار سال" عِشْ ألف سنة، كما قال الفراء في "معاني القرآن" 1/ 63.
📝 نوٹ / توضیح: "زه هزار سال" کا مطلب ہے: ہزار سال جیو، جیسا کہ فراء نے "معاني القرآن" 1/ 63 میں کہا ہے۔