🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. الطواف بين الصفا والمروة من سنة أم إسماعيل عليهما السلام
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3114
أخبرني الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق من أصل كتابه.... (2) حدثنا موسى بن أَعيَن، حدثنا عبد الكريم بن مالك، عن مجاهد، عن أبي ذرٍّ: أنه سأل رسول الله ﷺ عن الإيمان، فتَلَا هذه الآية: ﴿لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾ [البقرة: 177] ، حتى فَرَغَ من الآية، قال: ثم سأله أيضًا فتلَاها، ثم سأله أيضًا فتلاها، ثم سأله فقال:"فإذا عملتَ حسنةً أحبَّها قلبُك، وإذا عملتَ سيئةً أبغَضَها قلبُك" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3077 - كيف وهو منقطع
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں پوچھا تو آپ نے یہ آیت تلاوت کی: لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ ٰلکِنَّ الْبِرَّ مَنْ ٰامَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ (البقرۃ: 177) کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ مُنہ مشرق یا مغرب کی طرف کر وہاں اصلی نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت پر ۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری آیت پڑھ ڈالی۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی آیت تلاوت کی، انہوں نے پھر یہی سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی آیت تلاوت کی، انہوں نے پھر سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تو نیکی کرے تو اپنے دل سے اس سے محبت بھی کر اور جب تجھ سے گناہ سرزد ہو جائے تو دل سے اس کو بُرا جان۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3114]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3114 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هنا بياض في النسخ الخطية، ويجب أن يكون مكانه طبقتان بين الرواة، كما وقع في مواضع أخرى عند المصنف انظر (7200) و (8262) و (8263) و (8495).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور یہاں راویوں کے درمیان دو طبقات کا ہونا ضروری ہے، جیسا کہ مصنف کے ہاں دوسری جگہوں پر واقع ہوا ہے، دیکھیے (7200)، (8262)، (8263) اور (8495)۔
(3) إسناده ضعيف لانقطاعه، فإنَّ مجاهدًا لم يسمع من أبي ذر، وأعلَّه بالانقطاع أيضًا الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، کیونکہ مجاہد نے ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا، اور ذہبی نے بھی اپنی "تلخیص" میں اسے انقطاع کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 1/ 287 من طريق عامر بن شفي، عن عبد الكريم بن مالك الجزري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 1/ 287 میں عامر بن شفی کے طریق سے، انہوں نے عبدالکریم بن مالک الجزری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا دون مقول النبي ﷺ في آخره: معمر في "جامعه" (20110) عن عبد الكريم الجزري، به. ومن طريقه أخرجه المروزي في "تعظيم قدر الصلاة" (409)، والخلّال في "السنة" (1197)، والآجري في "الشريعة" (251)، وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 2/ 772 و 798. وأخرجه بنحو الرواية المطوَّلة ابن بطة 2/ 772 - 773 من طريق القاسم بن عبد الرحمن المسعودي، عن أبي ذر. وهو منقطع أيضًا بين القاسم وأبي ذر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے معمر نے اپنی "جامع" (20110) میں عبدالکریم الجزری سے اسی سند کے ساتھ مختصراً (آخر میں نبی ﷺ کے قول کے بغیر) تخریج کیا ہے۔ اور انہی کے طریق سے اسے مروزی نے "تعظيم قدر الصلاة" (409) میں، خلال نے "السنة" (1197) میں، آجری نے "الشريعة" (251) میں، اور ابن بطہ نے "الإبانة الكبرى" 2/ 772 اور 798 میں نکالا ہے۔ اور طویل روایت کی مثل اسے ابن بطہ نے 2/ 772 - 773 میں قاسم بن عبدالرحمن المسعودی کے طریق سے ابو ذر سے تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ بھی قاسم اور ابو ذر کے درمیان منقطع ہے۔