🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. الطواف بين الصفا والمروة من سنة أم إسماعيل عليهما السلام
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کی سنت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3115
حدثنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا أبو النَّضْر، حدثنا شُعبة، عن منصور. وأخبرني أبو بكر محمد بن عبد الله الشافعي ببغداد، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذيفة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن زُبَيد عن مُرَّة بن شَراحِيل، عن عبد الله بن مسعود في قول الله ﷿: ﴿وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى﴾ [البقرة: 177] ، قال: يعطي الرجلَ وهو صحيحٌ شَحِيح، يَأمُل العيشَ ويخاف الفقرَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3078 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: (وَاتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی) (البقرۃ: 177) اور اللہ کی محبت میں اپنا عزیز مال دے ۔ بخیل آدمی حالتِ صحت میں صرف اس لیے خرچ کرتا ہے کیونکہ وہ زندہ رہنے کی حرص رکھتا اور فقر سے ڈرتا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3115]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3115 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو النضر: هو هاشم بن القاسم، وأبو حذيفة: هو موسى بن مسعود النهدي، وسفيان: هو الثوري، ومنصور: هو ابن المعتمر، وزبيد: هو ابن الحارث الياميّ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو النضر سے مراد ’ہاشم بن القاسم‘ ہیں، ابو حذیفہ سے مراد ’موسیٰ بن مسعود النہدی‘ ہیں، سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں، منصور سے مراد ’ابن المعتمر‘ ہیں، اور زبید سے مراد ’ابن الحارث الیامی‘ ہیں۔
وأخرجه النَّسَائِي (11847) من طريق عبد الله بن المبارك، عن شعبة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی نے (11847) میں عبداللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "مصنفه" (16324) و "تفسيره" 1/ 66 عن سفيان الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق نے "مصنف" (16324) اور "تفسیر" 1/ 66 میں سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
ويشهد له دون ذكر الآية حديث أبي هريرة مرفوعًا عند البخاري (1419) ومسلم (1032).
🧩 متابعات و شواہد: اور آیت کے ذکر کے بغیر اس کی تائید (بطور شاہد) ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث کرتی ہے جو بخاری (1419) اور مسلم (1032) میں ہے۔
صحيح، أي: ليس فيه مرض أو علّة تقطع أمله في الحياة.
📝 نوٹ / توضیح: (لفظ) "صحیح" یعنی: جس میں کوئی ایسا مرض یا علت نہ ہو جو زندگی کی امید کو ختم کر دے (تندرست)۔
وشحيح، أي حريص على ماله، جامع له.
📝 نوٹ / توضیح: (لفظ) "شحیح" یعنی: اپنے مال کا حریص اور اسے جمع کرنے والا۔