🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. تفسير آية: وحمله وفصاله ثلاثون شهرا
آیت“اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3146
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نجيح، عن عطاء، عن ابن عباس، قال: نَسَخَت هذه الآيةُ عِدَّتَها في أهلها، فتعتدُّ حيث شاءت، لقول الله: ﴿غَيْرَ إِخْرَاجٍ﴾ [البقرة: 240] . قال عطاء: إن شاءت اعتدَّت في أهلها، وإن شاءت خَرَجَت، لقول الله ﷿: ﴿فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ﴾ [البقرة: 240] (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه (4) !
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3109 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اس آیت نے عورت کا اپنے شوہر کے گھر میں عدت گزارنے کے حکم کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزارے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: غیر اخراج عطاء کہتے ہیں: وہ اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنا چاہے تو اس کی مرضی اور اگر وہاں سے جانا چاہے تو جا سکتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: فَاِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْ مَا فَعَلْنَ فِیْٓ اَنْفُسِھِنَّ (البقرۃ: 240) پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر اس کا مؤاخذہ نہیں جو انہوں نے اپنے معاملہ میں مناسب طور پر کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3146]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3146 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف، وقد روي من غير هذا الوجه، فانظر ما سلف برقم (2875). ورقاء: هو ابن عمر اليَشكُري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر صحیح ہے، اور یہ سند مصنف کے شیخ عبدالرحمن بن الحسن کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، اور یہ اس وجہ (طریق) کے علاوہ سے بھی مروی ہے، 🧾 تفصیلِ روایت: پس وہ دیکھیں جو نمبر (2875) پر گزر چکا ہے۔ ورقاء سے مراد ’ابن عمر الیشکری‘ ہیں۔
(4) بل أخرجه البخاري.
📝 نوٹ / توضیح: بلکہ اسے بخاری نے نکالا ہے۔