المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. شأن نزول : ( ألم تر إلى الذين خرجوا ) الآية
آیت“کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے گھروں سے نکلے”کے نازل ہونے کا سبب
حدیث نمبر: 3150
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا وكيع، حدثنا سفيان عن مَيسَرة النَّهْدي، عن المِنهال ابن عمرو، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ [البقرة:243] قال: كانوا أربعة آلاف، خرجوا فرارًا من الطاعون وقالوا: نأتي أرضًا ليس بها موتٌ، فقال لهم الله: مُوتُوا، فماتوا، فمَرَّ بهم نبيٌّ، فسأل الله أن يُحيِيَهم فأحياهم، فهم الذين قال الله ﷿: ﴿وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3113 - ميسرة لم يرويا له
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3113 - ميسرة لم يرويا له
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَھُمْ اُلُوف حذر الموت (البقرۃ: 243) ” اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے “۔ آپ فرماتے ہیں: وہ لوگ 4000 تھے، وہ طاعون سے خوفزدہ ہو کر نکلے اور وہ کہنے لگے: ہم ایسی جگہ جا رہے ہیں، جہاں ہمیں موت نہیں آئے گی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا: تم مر جاؤ، تو وہ مر گئے۔ پھر ان کے پاس ایک نبی کا گزر ہوا، اس نے اللہ تعالیٰ سے ان کے زندہ کرنے کا سوال کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ کر دیا، یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَھُمْ اُلُوف حَذَرَ الْمَوْتِ “ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3150]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3150 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده قوي. سفيان هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سفیان سے مراد ’ثوری‘ ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 2/ 586، والضياء المقدسي في "المختارة" 10/ (405) من طريقين عن وكيع، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی "تفسیر" 2/ 586 میں، اور ضیاء المقدسی نے "المختارة" 10/ (405) میں وکیع سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا 2/ 586 من طريق أبي أحمد الزبيري، عن سفيان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے ہی 2/ 586 میں ابو احمد الزبیری کے طریق سے، انہوں نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔