🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
54. تفسير آية: وحمله وفصاله ثلاثون شهرا
آیت“اس کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے ہے”کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3149
أخبرني مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبرِقان، حدثنا أبو [أحمد بن الزُّبيري] (1) حدثنا فُضَيل بن مرزوق، حدثني شَقِيق بن عُقْبة العَبْدي، حدثني البَرَاء بن عازب قال: نزلت (حافِظُوا على الصَّلَواتِ وصلاة العصرِ) فقرأناها على عهد رسول الله ﷺ ما شاء أن نقرأها، ثم إنَّ الله نَسَخَها فأنزل: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [البقرة:238] ، فقال له رجل: أهي صلاةُ العصر؟ فقال: قد خبَّرتُك كيف نَزَلَت وكيف نَسَخَها الله، والله أعلم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3112 - على شرط مسلم
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 238) نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی (اور عصر کی نماز کی) ۔ (اسی آیت میں) وَصَلَاۃُ الْعَصْر (کے الفاظ بھی ہیں) پھر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسی طرح یہ آیت پڑھتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ کر کے یہ آیت نازل کی: حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی (البقرۃ: 238) نگہبانی کرو سب نمازوں اور بیچ کی نماز کی ۔ آپ سے ایک شخص نے پوچھا: کیا یہ نماز عصر ہے؟ تو آپ بولے: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ آیت کیسے نازل ہوئی اور کیسے منسوخ ہوئی۔ واللہ اعلم۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3149]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3149 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين مكانه بياض في الأصول، واستدركناه من "السنن الكبرى" للبيهقي 1/ 459 حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه. ووقع مكانه في "إتحاف المهرة" لابن حجر (2067): حدثنا أبو نعيم، وهو ذهول منه أو سبق قلم.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ میں موجود جگہ پر اصل نسخوں میں بیاض (خالی جگہ) ہے، اور ہم نے اسے بیہقی کی "السنن الكبرى" 1/ 459 سے پورا (استدراک) کیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اور ابن حجر کی "إتحاف المهرة" (2067) میں اس کی جگہ "حدثنا أبو نعيم" واقع ہوا ہے، جو ان کی بھول یا قلم کی غلطی (سبق قلم) ہے۔
(2) إسناده جيد من أجل فضيل بن مرزوق، فهو صدوق لا بأس به.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند فضیل بن مرزوق کی وجہ سے ’جید‘ ہے، کیونکہ وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں (لا بأس بہ)۔
وأخرجه أحمد 30 / (18673)، ومسلم (630) من طريق يحيى بن آدم، عن فضيل بن مرزوق، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 30/ (18673) اور مسلم نے (630) میں یحییٰ بن آدم کے طریق سے، انہوں نے فضیل بن مرزوق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: چنانچہ حاکم کا اس پر استدراک کرنا ان کی بھول ہے۔