🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. قصة غزوة أحد
غزوۂ اُحد کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3201
أخبرني أبو النَّضْر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن داود بن علي بن عبد الله بن عبَّاس بن عبد المطَّلب، حدثنا عبد الرحمن ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتْبة، عن ابن عبَّاس أنه قال: ما نُصِرَ النبيُّ ﷺ في موطنٍ كما نُصِر في أُحد، قال: فأنكَرْنا ذلك، فقال ابن عبَّاس: بيني وبين مَن أنكَرَ ذلك كتابُ الله ﷿، إنَّ الله ﷿ يقول في يوم أُحد: ﴿وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللَّهُ وَعْدَهُ إِذْ تَحُسُّونَهُمْ بِإِذْنِهِ﴾، يقول ابن عبَّاس: والحَسُّ: القتل ﴿حَتَّى إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْأَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِنْ بَعْدِ مَا أَرَاكُمْ مَا تُحِبُّونَ مِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَنْ يُرِيدُ الْآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِيَبْتَلِيَكُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ وَاللَّهُ ذُو فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ (آل عمران: 152] ، وإنما عَنَى بهذا الرُّماةَ، وذلك أنَّ النبي ﷺ أقامهم في موضع ثم قال:"احمُوا ظهورَنا، فإن رأيتُمونا نُقتَلُ فلا تَنصُرونا، وإن رأيتُمونا قد غَنِمْنا فلا تَشرَكُونا"، فلما غَنِمَ رسولُ الله ﷺ وأباحوا عسكرَ المشركين، انكَفَتَ الرُّماةُ جميعًا فدخلوا في العسكر يَنتهِبون، وقد التَقَتْ صفوفُ أصحاب النبي ﷺ فهُمْ هكذا -وشبَّك أصابع يديه- والْتَبسوا، فلما أخَلَّ الرماة تلك الخَلَّةَ التي كانوا فيها، دخل الخيلُ من ذلك الموضع على أصحاب النبي ﷺ، فضَرَبَ بعضُهم بعضًا والْتَبَسوا، وقُتِل من المسلمين ناس كثير، وقد كان لرسول الله ﷺ وأصحابِه أولُ النهار حتى قُتل من أصحاب لواء المشركين سبعةٌ أو تسعةٌ. وجالَ المسلمون جولةً نحو الجبل، ولم يَبلغُوا -حيث يقول الناسُ- الغابَ، إنما كان تحت المِهْراس (1) ، وصاح الشيطان: قُتِلَ محمد، فلم نشكَّ فيه أنه حقٌّ، فما زلنا كذلك ما نشكُّ أنه قد قُتِلَ حتى طَلَعَ رسول الله ﷺ بين السَّعدَين (2) نعرفُه بتكفُّئِه إذا مشى، قال: ففَرِحْنا حتى كأنه لم يُصِبْنا ما أصابنا، قال: فرَقِيَ نحونا وهو يقول:"اشتَدَّ غضب الله على قوم دَمَّوا وجهَ رسول الله"، قال: ويقول مرةً أخرى:"اللهمَّ إنه ليس لهم أن يَعلُونا"، حتى انتهى إلينا. قال: فمَكَثَ ساعةً، فإذا أبو سفيان يصيحُ في أسفل الجبل: اعلُ هُبَلُ، اعلُ هُبَلُ - يعني: آلهته - أين ابن أبي كَبْشةَ؟ أين ابنُ أبي قُحَافة؟ أين ابنُ الخطَّاب؟ فقال عمر: يا رسول الله، ألا أجيبهُ؟ قال:"بلى" فلما قال: اعلُ هبلُ، قال عمر: اللهُ أعلى وأجلُّ، فقال أبو سفيان: يا ابن الخطَّاب، إنه يوم الصَّمْت، فعاد فقال: أين ابنُ أبي كَبْشة؟ أين ابنُ أبي قُحَافة؟ أين ابنُ الخطَّاب؟ فقال عمر: هذا رسول الله ﷺ، وهذا أبو بكر، وها أنا ذا عمر، فقال أبو سفيان: يومٌ بيوم بَدْر، الأيام دُوَلٌ، والحربُ سِجَالٌ، فقال عمر: لا سواءَ، قَتْلانا في الجنة وقَتلاكم في النار، قال: إنكم لتَزعُمون ذلك، لقد خِبْنا إذًا وخَسِرُنا، ثم قال أبو سفيان: أمَا إنكم سوف تَجِدُون في قتلاكم مُثْلةً، ولم يكن ذلك عن رأي سَرَاتِنا، ثم أدركته حِميَّةُ الجاهلية فقال: أمَا إنه إذا كان ذاك لم نَكرَهْه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3163 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح جنگ احد کے موقع پر مدد کی گئی اس طرح کبھی نہیں کی گئی۔ سیدنا عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے اس بات کا انکار کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے: میرے موقف اور منکرین کے موقف میں قرآن پاک فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یوم احد کے متعلق فرمایا: وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِاِذْنِہٖ (آل عمران: 152) اور بیشک اللہ نے تمہیں سچ کر دکھایا اپنا وعدہ جب کہ تم اس کے حکم سے کافروں کو قتل کرتے تھے ۔۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: حس کا مطلب قتل ہے۔ حَتّٰی اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَعَصَیْتُمْ مِّنْم بَعْدِ مَآ اَٰرکُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ مِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنْکُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ وَ اللّٰہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (آل عمران: 152) یہاں تک کہ جب تم نے بزدلی کی اور حکم میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں دکھا چکا تمہاری خوشی کی بات تم میں کوئی دنیا چاہتا تھا اور تم میں کوئی آخرت چاہتا تھا پھر تمہارا منہ ان سے پھیر دیا کہ تمہیں آزمائے اور بیشک اس نے تمہیں معاف کر دیا اور اللہ مسلمانوں پر فضل کرتا ہے ۔۔ اور اس (جماعت) سے مراد تیراندازوں کی جماعت ہے۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خاص مقام پر تعینات کیا تھا اور یہ تاکید فرمائی تھی کہ تم لوگ ہماری بیک سائیڈ کی حفاظت کرتے رہنا اگر تم یہ دیکھو کہ ہمیں قتل کیا جا رہا ہے تو تم ہماری مدد کے لیے ہرگز نہ آنا اور اگر تم دیکھو کہ ہم مالِ غنیمت جمع کر رہے ہیں تو ہمارے ساتھ شریک مت ہونا پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح حاصل ہوئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مال غنیمت جمع کرنے لگے، مشرکین کو شکست ہوئی تو یہ تیرانداز اپنے اس مقام سے نیچے اترے اور جنگ میں مالِ غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔ (سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر اشارہ کر کے فرمایا: پھر مسلمانوں کی صفیں یوں آپس میں خلط ملط ہو گئیں، جب تیراندازوں نے وہ درہ خالی کر دیا تو وہیں سے گھڑسواروں کی ایک جماعت (پچھلے راستے سے آ کر) وہاں سے میدان جنگ میں داخل ہوئی اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے بہت سے مسلمانوں کو شہید کر دیا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شروع دن سے ہی جنگ میں مصروف تھے حتیٰ کہ مشرکین کے علمبرداروں میں سے سات یا نو افراد کو قتل کر دیا اور مسلمانوں نے شکست کھانے کے بعد پہاڑ کی جانب (جہاں گھڑ سوار داخل ہو چکے تھے) دوبارہ حملہ کیا اور ابھی وہ وہاں پہنچے نہیں تھے کہ لوگوں نے کہا: لوگوں کی جماعت تو پانی کے اس چشمے کے نیچے ہے۔ ادھر شیطان نے چلا کر آواز دی: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ہم کو اس خبر کے سچی ہونے میں کوئی شک نہ تھا اور ہم مسلسل اسی یقین میں تھے کہ اب تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے درمیان سامنے تشریف لے آئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھک کر چلنے کی وجہ سے پہچان لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ہمیں اس قدر خوشی ہوئی گویا کہ ہمیں کبھی بھی کوئی مصیبت آئی ہی نہیں تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف چڑھ کر تشریف لے آئے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہہ رہے تھے: اللہ تعالیٰ اس قوم پر شدید غضب فرمائے، جنہوں نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون آلود کروا دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے: اے اللہ! ان کی یہ شان نہیں کہ وہ ہم پر غالب آئیں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم تک پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس پہنچ کر ابھی کچھ دیر ہی ٹھہرے تھے کہ ابوسفیان پہاڑ کے دامن سے چیخ چیخ کر کہنے لگا: ھبل کی شان بلند ہو، ھبل کی شان بلند ہو، یعنی وہ اپنے جھوٹے معبودوں کی شان میں باتیں کرنے لگا (اور کہنے لگا) ابن ابی کبثہ کہاں ہے؟ ابن ابی قحافہ کہاں ہے؟ ابن الخطاب کہاں ہے؟ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو جواب دینے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی، چنانچہ جب اس نے کہا: ھبل کی شان بلند ہو، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ ہی سب سے اعلیٰ اور بزرگ ہے، ابوسفیان نے کہا: اے ابن الخطاب آج کا دن تمہارے خاموش رہنے کا دن ہے، اس نے پھر کہا: ابن کبثہ کہاں ہے؟ ابن قحافہ کہاں ہے؟ ابن خطاب کہاں ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً کہا: یہ ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ ہیں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور یہ میں عمر رضی اللہ عنہ ہوں، ابوسفیان نے کہا: آج کا دن بدر کا بدلہ ہے۔ دن بدلتے رہتے ہیں اور جنگ تو نام ہی مقابلہ کا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: کوئی برابری نہیں ہے، ہمارے شہید جنتی ہیں جبکہ تمہارے مقتول دوزخی ہیں۔ اس نے کہا: اگر تمہارا یہ گمان درست ہے تو ہم خائب و خاسر ہیں۔ پھر ابوسفیان نے کہا: تم اپنے مقتولوں میں بعض کی شکلیں بگڑی پاؤ تو وہ ہمارے بڑوں کی اجازت سے نہیں کیا گیا، پھر اس پر وہی جاہلیت کی حمیت غالب آ گئی اور اس نے کہا لیکن بہرحال اگر ایسا ہو جائے تو ہم اس کو ناپسند نہیں کرتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3201]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3201 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هو ماءٌ بأُحد.
📝 نوٹ / توضیح: یہ اُحد (پہاڑ) کے قریب ایک پانی (چشمہ/کنواں) ہے۔
(2) هما سعد بن عبادة وسعد بن معاذ كما في "مغازي الواقدي" 1/ 294.
📝 نوٹ / توضیح: وہ دونوں سعد بن عبادہ اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہما ہیں، جیسا کہ "مغازي الواقدي" 1/ 294 میں ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل عبد الرحمن بن أبي الزناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبدالرحمن بن ابی الزناد کی وجہ سے ’حسن‘ ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2609) عن سليمان بن داود الهاشمي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد نے 4/ (2609) میں سلیمان بن داود الہاشمی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرج منه قوله: "اشتدَّ غضب الله على قوم دَمَّوا وجه رسول الله" فقط، البخاري (4074) و (4076) من طريق عمرو بن دينار، عن عكرمة عن ابن عبَّاس موقوفًا عليه.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس میں سے صرف یہ قول: "اللہ کا غضب شدید ہو گیا اس قوم پر جس نے رسول اللہ ﷺ کے چہرے کو لہو لہان کیا" بخاری نے (4074) اور (4076) میں عمرو بن دینار کے طریق سے، انہوں نے عکرمہ سے، انہوں نے ابن عباس سے موقوفاً تخریج کیا ہے۔