المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
74. قصة غزوة أحد
غزوۂ اُحد کا واقعہ
حدیث نمبر: 3202
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي وعلي بن عبد العزيز: قالا: حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن أبي طَلْحة الأنصاري قال: رفعتُ رأسي يومَ أُحد، فجعلتُ أنظر وما منهم أحد إلَّا وهو يَمِيدُ تحت حَجَفَتِه من النُّعاس، فذلك قوله ﷿: ﴿ثُمَّ أَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُعَاسًا يَغْشَى طَائِفَةً مِنْكُمْ﴾ الآية [آل عمران: 154] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3164 - صحيح
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3164 - صحيح
سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، جنگ احد کے دن میں اونگھ کی وجہ سے ہر شخص اپنے سینے سے بھی نیچے ڈھلکا جا رہا تھا اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے: ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآئِفَۃً مِّنْکُمْ (آل عمران: 154) الایۃ ” پھر تم پر غم کے بعد چین کی نیند اُتاری کہ تمہاری ایک جماعت کو گھیرے تھی “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3202]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3202 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وأخرجه الترمذي (3007)، والنسائي (11134) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد. والنسائي ليس في حديثه ذكر الآية. وقال الترمذي: حديث حسن صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی نے (3007) اور نسائی نے (11134) میں حماد بن سلمہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ نسائی کی حدیث میں آیت کا ذکر نہیں ہے۔ اور ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
وأخرج معناه أحمد (26) (16357)، والبخاري (4068) و (4562)، والترمذي (3008)، وابن حبان (7180) من طريق قتادة، والنسائي (11014) و (11135) من طريق حُميد الطويل، كلاهما عن أنس به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اس کا مفہوم احمد نے (26) (16357)، بخاری نے (4068) اور (4562)، ترمذی نے (3008)، اور ابن حبان نے (7180) میں قتادہ کے طریق سے؛ اور نسائی نے (11014) اور (11135) میں حمید الطویل کے طریق سے؛ دونوں نے انس رضی اللہ عنہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔