🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
81. ثلاثة يدعون الله فلا يستجاب لهم
تین قسم کے لوگ اللہ سے دعا کرتے ہیں مگر ان کی دعا قبول نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3225
هكذا أخبرنا علي بن محمد بن عُقْبة الشَّيباني بالكوفة، حدثنا الهيثم ابن خالد، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا ابن عُيينة، عن عمرو بن دينار قال: سمعت محمدَ ابن طلحة بن يزيد بن رُكَانة يحدِّث عن عمر بن الخطاب قال: لَأن أكونَ سألتُ رسول الله ﷺ عن ثلاث، أحبُّ إلي من حُمْر النَّعَم: مَن الخليفةُ بعده؟ وعن قومٍ قالوا: نُقِرُّ بالزكاة في أموالنا ولا نؤدِّيها إليك، أيَحِلُّ قتالُهم؟ وعن الكَلَالة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3186 - بل ما خرجا لمحمد شيئا ولا أدرك عمر
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (درج ذیل) تین اشیاء کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرنا میرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ (1) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کون ہو گا۔ (2) جو لوگ کہتے ہیں: ہم زکوۃ اپنے مالوں میں ہی باقی رکھیں گے تمہیں ادا نہیں کریں گے۔ کیا ان کے ساتھ جہاد کرنا جائز ہے۔ (3) کلالہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3225]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3225 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، محمد بن طلحة لم يدرك عمرَ بنَ الخطاب، وبهذا أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں مگر یہ منقطع ہے؛ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن طلحہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ ابو نعیم سے مراد ’فضل بن دکین‘ ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق في "مصنفه" (19185)، وسعيد بن منصور في "سننه" (2932) عن سفيان بن عيينة بهذا الإسناد. وقرن عبد الرزاق بسفيان ابنَ جُريج.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبدالرزاق نے "مصنف" (19185) میں، اور سعید بن منصور نے "سنن" (2932) میں سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور عبدالرزاق نے سفیان کے ساتھ ابن جریج کو بھی ملایا ہے۔