🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
83. حرم من النسب سبع ومن الصهر سبع
نسب سے سات اور سسرالی رشتے سے سات عورتیں حرام ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3233
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بِشْر العَبْدي، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن مَعْن بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود قال: إنَّ في سورة النساء لخمسَ آيات ما يَسُرُّني أنَّ لي بها الدنيا وما فيها: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 40] ، و ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ [النساء: 31] ، و ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء:48] ، و ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ [النساء: 64] (2) ، قال عبد الله: ما يَسُرُّني أَنَّ لي بها الدنيا وما فيها (1) . هذا إسناد صحيح إن كان عبدُ الرحمن سمع من أبيه، فقد اختُلِفَ في ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3194 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ النساء میں پانچ آیتیں ایسی ہیں اگر ان کے بدلے مجھے دنیا بھر کا خزانہ ملے تب بھی راضی نہیں ہو سکتا (وہ پانچ آیات یہ ہیں): (1) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء: 40) اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے ۔ (2) اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا (النساء: 31) اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے ۔ (3) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ (النساء: 48) بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے ۔ (4) وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء: 64) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (5) وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (النساء: 110) اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات بھی خوش نہیں کر سکتی کہ ان آیات کے بدلے میرے لیے دنیا و مافیھا ہو۔ ٭٭ اگر عبدالرحمن نے واقعی اپنے والد سے حدیث کا سماع کیا ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے عبدالرحمن کے اپنے والد سے سماع میں محدثین کرام کا اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3233]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3233 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) زاد بعد هذا في المطبوع: و ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا﴾ [النساء:110]، وهذا ثابت في غير رواية الحاكم، أما روايته فالصواب -كما في نسخنا الخطية- أنه لم ترد فيها هذه الآية الخامسة، والدليل على ذلك أنَّ البيهقي في "شعب الإيمان" (2202) روى هذا الخبر عن شيخه أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد دون ذكرها، ثم قال في آخر الخبر: وأظن الخامسة ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا … ﴾.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مطبوعہ نسخے میں اس کے بعد یہ اضافہ ہے: "اور ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا...﴾" [النساء: 110]۔ یہ اضافہ حاکم کے علاوہ کی روایت میں ثابت ہے، لیکن حاکم کی روایت میں صحیح یہ ہے - جیسا کہ ہمارے قلمی نسخوں میں ہے - کہ اس میں یہ پانچویں آیت نہیں آئی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ بیہقی نے "شعب الإيمان" (2202) میں یہ خبر اپنے شیخ ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ بغیر اس آیت کے ذکر کے روایت کی ہے، پھر خبر کے آخر میں کہا: میرا خیال ہے کہ پانچویں آیت ﴿وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا … ﴾ ہے۔
(1) إسناده صحيح، والراجح في عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود أنه سمع من أبيه قليلًا.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود کے بارے میں راجح یہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد سے بہت کم سنا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (2202) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "شعب الإيمان" (2202) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أبو عبيد في "فضائل القرآن" ص 277، وسعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (659)، وابن المنذر في "تفسيره" (1673) و (1956)، والطبراني في "الكبير" (9069)، والبيهقي (2203) من طريق سفيان بن عيينة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو عبید نے "فضائل القرآن" ص 277 میں، سعید بن منصور نے اپنی "سنن" کی تفسیر (659) میں، ابن المنذر نے اپنی "تفسیر" (1673) اور (1956) میں، طبرانی نے "الكبير" (9069) میں، اور بیہقی نے (2203) میں سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔