المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
83. حَرُمَ مِنَ النَّسَبِ سَبْعٌ وَمِنَ الصِّهْرِ سَبْعٌ
نسب سے سات اور سسرالی رشتے سے سات عورتیں حرام ہیں
حدیث نمبر: 3228
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا أحمد بن سيَّار، حدثنا محمد بن كَثير، حدثنا سفيان عن الأعمش، عن إسماعيل بن رَجَاء، عن عُمَير، عن ابن عبَّاس قال: حَرُمَ من النَّسب سبعٌ ومن الصِّهر سبعٌ، ثم قرأ هذه الآية: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾ هذا من النَّسَب، ﴿وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ﴾ [النساء: 23] ، ﴿وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ﴾ [النساء: 22] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من رواية عكرمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3189 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح من رواية عكرمة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3189 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: نسب کی وجہ سے سات رشتے حرام کیے گئے ہیں اور نکاح کی وجہ سے بھی سات رشتے حرام کیے گئے ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ اُمَّھٰتُکُمْ وَبَنَاتُکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ وَعَمّٰتُکُمْ وَ خَاٰلتُکُمْ وَبَنٰتُ الْاَخِ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ (النساء: 23) ” حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں “۔ یہ رشتہ داریاں تو نسب کی وجہ سے حرام ہیں۔ اور (درج ذیل آیت میں بھی محرمات کی مزید بیان ہے) وَ اُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِیْٓ اَرْضَعْنَکُمْ وَ اَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ وَ اُمَّھٰتُ نِسَآئِکُمْ وَرَبَآئِبُکُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِکُمْ مِّنْ نِّسَآئِکُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِھِنَّز فَاِنْ لَّمْ تَکُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِھِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَائِکُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِکُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ) (النساء: 23) ” اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنہیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں ان بیبیوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبیں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا مگر جو ہو گزارا “۔ اور وَ لَا تَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ ٰابَآؤُکُمْ مِّنَ النِّسَآئِ (النساء: 22) ” اور باپ دادا کی منکوحہ سے نکاح نہ کرو مگر جو ہو گزرا “ (، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3228]
حدیث نمبر: 3229
أخبرنيه أبو الحسن علي بن محمد بن عُقْبة، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامري، حدثنا الحسن بن عَطيَّة (2) ، حدثنا علي بن صالح، عن سِمَاك، عن عِكْرمة عن ابن عبَّاس قال: حَرُمَ سبعٌ من النَّسب، وسبعٌ من الصِّهْر (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3190 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3190 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے۔” نسب میں سے 7 اور سسرالی رشتہ داروں میں سے 7 کے ساتھ نکاح حرام کیا گیا “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3229]
حدیث نمبر: 3230
أخبرنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا شُعبة، عن أبي حَصِين، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: أنه قال في هذه الآية ﴿وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ﴾ [النساء: 24] ، قال: كلُّ ذاتِ زوج إتيانُها زناً إِلَّا ما سُبِيَت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3191 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3191 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: (وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآئِ اِلَّا مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ) (النساء: 24) ” اور حرام ہیں شوہردار عورتیں مگر کافروں کی عورتیں جو تمہاری ملک میں آ جائیں “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: کسی بھی شادی شدہ شوہر والی کے ساتھ نکاح کرنا، زنا ہے سوائے لونڈیوں کے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3230]
حدیث نمبر: 3231
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق ابن إبراهيم، أخبرنا النَّضْر بن شُميل، أخبرنا شعبة، حدثنا أبو مَسلَمة، قال: سمعت أبا نَضْرة يقول: قرأتُ على ابن عبَّاس ﴿فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [النساء: 24] ، قال ابنُ عبَّاس: (فما استَمتَعْتُم به مِنهُنَّ إلى أَجَلٍ مُسمًّى) ، قال أبو نَضْرة: فقلت: ما نقرؤُها كذلك، قال ابن عبَّاس: واللهِ لَأَنزَلَها اللهُ كذلك (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3192 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3192 - على شرط مسلم
سیدنا ابونضرہ کہتے ہیں: میں نے یہ آیت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے تلاوت کیں: فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْھُنَّ فَاٰتُوْھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیْضَۃً (النساء: 24) ” تو جن عورتوں کو نکاح میں لانا چاہو ان کے بندھے ہوئے مہر ان کو دو “۔ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:” فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِہٖ مِنْہُنَّ “ (کے ساتھ یہ الفاظ بھی پڑھو):” اَجَلٍ مُّسَمّی “ تو سیدنا ابونضرہ بولے: ہم تو یہ آیت اس طرح نہیں پڑھتے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ آیت اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی نازل فرمائی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3231]
حدیث نمبر: 3232
أخبرنا أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا علي بن الحسن بن شقيق، حدثنا نافع بن عمر، قال: سمعت، عبد الله ابن أبي مَلَيكة يقول: سُئِلت عائشةُ عن مُتْعة النساء، فقالت: بيني وبينكم كتابُ الله، قال: وقرأَتْ هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: 5 - 6] ، فمَنِ ابْتَغَى وراءَ ما زَوَّجه الله أو مَلَّكَه فقد عَدَا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3193 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3193 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عورتوں سے متعہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس قرآن موجود ہے (پڑھ کر دیکھیے آپ کو متعہ کا حکم معلوم ہو جائے گا) پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلٰٓی اَزْوَاجِھِمْ اوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآئَ (المؤمنون: 5-7) ” اور وہ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیبیوں اور شرعی باندیوں پر جو ان کے ہاتھ کی ملک ہیں کہ ان پر کوئی ملامت نہیں، تو جو ان دو کے سوا کچھ اور چاہے “۔ یعنی جن کے ساتھ نکاح ہوا ہے اور جو اس کی ملکیت میں ہیں، ان کے علاوہ اگر کسی نے راستہ ڈھونڈا اس نے حد سے تجاوز کیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3232]
حدیث نمبر: 3233
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا أبو عبد الله محمد بن بِشْر العَبْدي، حدثنا مِسعَر بن كِدام، عن مَعْن بن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود، عن أبيه، عن عبد الله بن مسعود قال: إنَّ في سورة النساء لخمسَ آيات ما يَسُرُّني أنَّ لي بها الدنيا وما فيها: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا﴾ [النساء: 40] ، و ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ [النساء: 31] ، و ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ [النساء:48] ، و ﴿وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا﴾ [النساء: 64] (2) ، قال عبد الله: ما يَسُرُّني أَنَّ لي بها الدنيا وما فيها (1) . هذا إسناد صحيح إن كان عبدُ الرحمن سمع من أبيه، فقد اختُلِفَ في ذلك.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3194 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3194 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ النساء میں پانچ آیتیں ایسی ہیں اگر ان کے بدلے مجھے دنیا بھر کا خزانہ ملے تب بھی راضی نہیں ہو سکتا (وہ پانچ آیات یہ ہیں): (1) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْھَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ اَجْرًا عَظِیْمًا (النساء: 40) ” اللہ ایک ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے “۔ (2) اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبٰٓئِرَ مَا تُنْھَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَ نُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِیْمًا (النساء: 31) ” اگر بچتے رہو کبیرہ گناہوں سے جن کی تمہیں ممانعت ہے تو تمہارے اور گناہ ہم بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے “۔ (3) اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ (النساء: 48) ” بیشک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر کے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرما دیتا ہے “۔ (4) وَلَوْ اَنَّھُمْ اِذْ ظَّلَمُوْآ اَنْفُسَھُمْ جَآئُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰہَ وَاسْتَغْفَرَ لَھُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (النساء: 64) ” اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں “۔ (5) وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓئًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (النساء: 110) ” اور جو کوئی برائی یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش چاہے تو اللہ کو بخشنے والا مہربان پائے گا “ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات بھی خوش نہیں کر سکتی کہ ان آیات کے بدلے میرے لیے دنیا و مافیھا ہو۔ ٭٭ اگر عبدالرحمن نے واقعی اپنے والد سے حدیث کا سماع کیا ہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے عبدالرحمن کے اپنے والد سے سماع میں محدثین کرام کا اختلاف ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3233]
حدیث نمبر: 3234
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا قَبِيصة، حدثنا سفيان، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن أم سَلَمة، أنها قالت: يا رسول الله، أيغزُو الرجالُ ولا نَعْزُو ولا نقاتلُ فتُستشهَدَ، وإنما لنا نصفُ الميراثِ؟ فأنزل الله ﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ﴾ [النساء: 32] (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان سمع مجاهدٌ من أم سلمة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3195 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان سمع مجاهدٌ من أم سلمة (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3195 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ کیا بات ہوئی کہ مرد تو جہاد کریں جبکہ ہم نہ جہاد کرتی ہیں نہ غزوہ میں شریک ہوتی ہیں کہ ہمیں مقام شہادت ملے۔ ادھر وراثت کے سلسلے میں بھی ہمیں مردوں کے مقابلہ میں نصف کا استحقاق دیا گیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہٖ بَعْضَکُمْ عَلٰی بَعْضٍ (النساء: 32) ” اور اس کی آرزو نہ کرو جس سے اللہ نے تم میں ایک کو دوسرے پر بڑائی دی “۔ ٭٭ اگر مجاہد کا ام سلمہ سے سماع ثابت ہو تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3234]
حدیث نمبر: 3235
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثني إدريس بن يزيد، حدثنا طلحة بن مُصرِّف، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿وَالَّذِينَ عَقَدَتْ (1) أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ﴾ [النساء: 33] ، قال: كان المهاجرون حين قَدِمُوا المدينةَ تُورَّثُ الأنصارَ دون ذوي القُربَى، رحمةً للأخوَّة التي آخى رسولُ الله ﷺ بينهم، فلما نزلت: ﴿وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ﴾ [النساء: 33] ، قال: فنَسَخَتها (وَالَّذِينَ عاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ) من النَّصر والنَّصيحة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين..... (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين..... (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3196 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ (النساء: 33) ” اور جن سے تمہارا حلف بندھ چکا انہیں ان کا حصہ دو “۔ کے متعلق فرماتے ہیں: جب مسلمان ہجرت کر کے مدینۃ المنورہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جن انصاریوں کا بھائی بنایا تھا وہ انصاری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اپنے ان بھائیوں پر رحمت اور شفقت کے جذبات میں اپنے سگے رشتہ داروں کو چھوڑ کر ان کو وراثت دیا کرتے تھے۔ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی: وَلِکُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَکَ الْوَالِدٰنِ وَالْاَقْرَبُوْنَ (النساء: 33) ” اور ہم نے سب کے لیے مال کے مستحق بنا دیئے ہیں جو کچھ چھوڑ جائیں ماں باپ اور قرابت والے “۔ تو اس آیت نے ” وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ “ والے حکم کو منسوخ کر دیا، پھر فرمایا: وَالَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُکُمْ فَاٰتُوْھُمْ نَصِیْبَھُمْ یعنی جن سے تمہارا عقد (مواخاۃ) بندھ چکا ہے، ان کو امداد اور نصیحت وغیرہ دے دیا کرو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 3235]