🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. شأن نزول آية : ( لا تقربوا الصلاة وأنتم سكارى )
آیت“نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ”کے نازل ہونے کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3240
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمّار بن رُزَيق، حدثنا عطاء بن السائب، عن أبي يحيى، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ قال: كان الرجل يأتي رسولَ الله ﷺ فيُسلِمُ، ثم يَرِجعُ إلى قومه فيكون فيهم [وهم] مشركون، فيصيبه المسلمون خطأً في سَرِيَّة أو غَزَاة، فيُعتِق الرجلُ رَقَبةً، ﴿وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ [النساء: 92] قال: يكون الرجلُ معاهدًا وقومه أهلُ عهدٍ فيُسلَّمُ إليهم دِيَتُه، ويُعتق الذي أصابه رقبةً (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3201 - صحيح
سیدنا (عبداللہ) بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد: فَاِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّکُمْ وَ ھُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (النساء: 92) پھر اگر وہ اس قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہے اور خود مسلمان ہے تو صرف ایک مملوک مسلمان کا آزاد کرنا ۔ کے متعلق فرماتے ہیں: کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کر کے واپس اپنی قوم میں جا کر رہنے لگ جاتا اور مسلمان کسی غزوہ یا سریہ میں ان مشرکوں پر حملہ کرتے تو غلطی سے اس کا بھی قتل ہو جاتا تو وہ قتل کرنے والا ایک غلام آزاد کرتا اور اس آیت: وَ اِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ م بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَھُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَۃٌ مُّسَلَّمَۃٌ اِلٰٓی اَھْلِہٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَۃٍ مُّؤْمِنَۃٍ (النساء: 92) اور اگر وہ اس قوم میں ہو کہ تم میں ان میں معاہدہ ہے تو اس کے لوگوں کو خون بہا سپرد کی جائے اور ایک مسلمان مملوک آزاد کرنا کے متعلق فرماتے ہیں: وہ آدمی معاہد ہو اور اس کی قوم بھی عہد والی ہو تو ان کی طرف وہ دیت ادا کرے اور جس کے ہاتھ سے وہ قتل ہوا ہے، وہ غلام آزاد کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3240]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3240 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده قوي. أبو الجوَّاب: هو الأحوص بن جوّاب، وأبو يحيى: هو زياد المكي الأعرج.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ’قوی‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو الجواب سے مراد ’الاحوص بن جواب‘ ہیں، اور ابو یحییٰ سے مراد ’زیاد المکی الاعرج‘ ہیں۔
وأخرجه البيهقي 8/ 131 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے 8/ 131 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي حاتم في "تفسيره" 3/ 1033 عن أحمد بن منصور الرمادي، عن أبي الجوّاب، به. وأخرجه ابن أبي شيبة 9/ 444، ومن طريقه ابن أبي عاصم في "الديات" ص 88، والطبراني في "الأوسط" (8174) عن معاوية بن هشام، عن عمار بن رزيق، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی حاتم نے اپنی "تفسیر" 3/ 1033 میں احمد بن منصور الرمادی سے، انہوں نے ابو الجواب سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ اور اسے ابن ابی شیبہ نے 9/ 444 میں، اور انہی کے طریق سے ابن ابی عاصم نے "الدیات" ص 88 میں، اور طبرانی نے "الأوسط" (8174) میں معاویہ بن ہشام سے، انہوں نے عمار بن رزیق سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔